# مغربی بنگال میں تارکین وطن کے لیے حراستی مراکز کے احکامات، اقلیتوں میں خوف کی لہر
**کولکتہ:** بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال میں غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے حراستی مراکز قائم کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے ریاست کی مسلم آبادی میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے من مانے طریقے سے ملک بدری کی کارروائیاں شروع ہو سکتی ہیں۔
یہ ہدایت نامہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی کے 1947 میں آزادی کے بعد پہلی بار اس مشرقی ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے چند روز بعد جاری کیا گیا ہے۔
## حکومت کا ‘پکڑو، شناخت کرو، ملک بدر کرو’ کا اصول
حکم نامے میں مقامی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملک بدری کے منتظر "گرفتار شدہ غیر ملکیوں” کے لیے "ہولڈنگ سینٹرز” قائم کریں۔ حکومت نے اپنے "پکڑو، شناخت کرو، ملک بدر کرو” کے اصول کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی صرف ان تارکین وطن کے خلاف ہے جو ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔
گزشتہ ہفتے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا، "غیر قانونی ہجرت کے سیکیورٹی اور سماجی و اقتصادی اثرات ہوتے ہیں جو اکثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حدود سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔”
## اقلیتوں میں بے چینی اور تنقید
اس فیصلے نے مغربی بنگال کی تقریباً 35 ملین مسلم آبادی میں خوف پیدا کر دیا ہے، جن میں سے بہت سے لوگوں کے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے ساتھ لسانی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امیگریشن کے حوالے سے حکومت کے سخت گیر موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی میں بی جے پی کے اعلیٰ ارکان بنگلہ دیشی تارکین وطن کو "دیمک” اور "در انداز” جیسے القابات سے پکار چکے ہیں۔
یہ پالیسیاں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت والی ہمسایہ ریاست آسام میں پہلے سے نافذ ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر شناختی مہمات اور حراستی کارروائیاں جاری ہیں۔
### انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ آسام سے سینکڑوں افراد کو بغیر کسی مناسب قانونی کارروائی کے بنگلہ دیش بھیجا گیا ہے، جو اکثر نسلی پروفائلنگ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ کارکنوں اور وکلاء کے مطابق، جنہوں نے عدالت میں ان اقدامات کو چیلنج کیا ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں کو مبینہ طور پر بندوق کے زور پر سرحد پار دھکیل دیا گیا۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ پالیسیاں مذہبی شناخت کو غیر قانونی ہجرت سے جوڑ کر مسلم آبادی کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتی ہیں۔
مغربی بنگال میں مجوزہ مراکز خاص طور پر تشویش کا باعث ہیں کیونکہ ریاست کی بنگلہ دیش کے ساتھ طویل اور غیر محفوظ سرحد ہے۔ اس حکم نامے میں روہنگیا پناہ گزینوں کی شمولیت نے بھی تنقید کو جنم دیا ہے۔
## روہنگیاؤں کی ملک بدری پر بین الاقوامی تشویش
بھارت پر پہلے بھی انسانی ہمدردی کے گروپوں کی جانب سے روہنگیاؤں کو زبردستی میانمار واپس بھیجنے کا الزام لگایا جا چکا ہے، جہاں مسلسل تنازعہ جاری ہے۔ یہ اقدام پناہ گزینوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی ممکنہ خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کی بے چینی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، آسام میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے پیر کو ذاتی مذہبی قوانین میں ترمیم کے لیے قانون سازی متعارف کرائی، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اقلیتوں کو مزید پسماندہ کیا جا سکتا ہے۔

