امریکی نائب صدر کا ایران کو انفراسٹرکچر پر دباؤ کی تنبیہ، پاکستان کے توسط سے جنگ بندی کے لیے تیاری کا اشارہ
واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی واضح تنبیہ کی ہے جبکہ پاکستانی ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام وینس کے اس تنازعے کو ختم کرانے کی کوششوں میں بڑھتے ہوئے کردار کی علامت ہے۔
ٹرمپ کی ہدایت پر جنگ بندی کی پیشکش
ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر نائب صدر وینس نے نجی طور پر یہ اشارہ دیا ہے کہ امریکہ جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے کچھ مخصوص مطالبات پورے ہوں۔ ایک ذریعے کے مطابق وینس نے ایک "سخت پیغام” میں یہ بھی کہا ہے کہ "ٹرمپ بے صبر ہیں۔”
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کسی معاہدے پر راضی نہیں ہوا تو اس کے انفراسٹرکچر پر دباؤ مسلسل بڑھتا جائے گا۔ یہ پیغامات پاکستان کے توسط سے دیے گئے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان اور چین کی مشترکہ اپیل
یہ ترقی اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ منگل کے روز، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان بیجنگ میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔
اس اجلاس کے بعد دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران پر حملے بند کرنے اور "جلد از جلد امن بات چیت” شروع کرنے کی اپیل کی۔
پانچ نکاتی امن اقدام
اجلاس میں خطے میں امن کے لیے ایک پانچ نکاتی اقدام بھی پیش کیا گیا جس میں درج ذیل باتوں پر زور دیا گیا:
- فوری طور پر دشمنیوں کا خاتمہ
- امن مذاکرات کا فوری آغاز
- غیر فوجی اہداف اور بحری راستوں کی حفاظت
- اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کا احترام
وینس کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار
ذرائع کے مطابق، نائب صدر جے ڈی وینس نے اس جنگ کو ختم کرانے کی مذاکراتی کوششوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ 2028 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے ممکنہ جانشین سمجھے جانے والے وینس نے اس تنازعے پر محتاط رویہ اپنایا ہے، جو بیرون ملک طویل امریکی فوجی مصروفیت کے بارے میں ان کے دیرینہ تحفظات کی عکاسی کرتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وہ ٹیم جس کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہے—نائب صدر وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر—اب بھی اس عمل میں سرگرم عمل ہیں۔
جنگ کا پس منظر
یہ جنگ 28 فروری سے جاری ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں ہلچل مچا دی ہے۔ ابتدائی حملوں کے فوراً بعد، ایران نے ہرمز کے آبنائے—جو تیل کی عالمی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے—کو بلاک کر دیا تھا اور خطے بھر میں اسرائیل اور امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے تھے۔
پاکستان نے اس بحران کے دوران سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے خطے کے اہم ممالک کے وزراء سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔

