ایران کے پہاڑی علاقے سے امریکی فضائیہ کے افسر کو خطرناک ریسکیو آپریشن میں بچایا گیا
واشنگٹن: امریکی افواج نے ایران کے ایک پہاڑی علاقے سے ایک ایف-15 جنگی جہاز کے ہتھیار سسٹم آفیسر کو ایک خطرناک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں بچایا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے اسے "امریکی فوجی تاریخ کے سب سے دلیرانہ آپریشنز میں سے ایک” قرار دیا۔
شدید ایرانی مزاحمت کے باوجود کامیاب مشن
ریسکیو مشن میں درجنوں فوجی ہوائی جہاز شامل تھے جنہیں ایرانی فائر کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ایرانی فائر سے متاثر ہوئے جبکہ ایک اے-10 وارٹھوگ طیارہ کویت کے اوپر گر کر تباہ ہو گیا۔ امریکی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران کوئی امریکی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ بچائے گئے افسر، ایک کرنل، کو زخمی حالت میں بازیاب کرایا گیا ہے اور ان کے ٹھیک ہونے کی امید ہے۔
دونوں ارکان کی علیحدہ بازیابی
ایران نے جمعے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ایف-15 جنگی جہاز کو اپنے فضائی دفاعی نظام سے گرایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز میں دو عملے کے ارکان سوار تھے۔ پہلے رکن کو جمعے کے روز ہی بچا لیا گیا تھا جبکہ دوسرے افسر کو خصوصی آپریشنز فورسز نے بعد ازاں ایران کے پہاڑی علاقے سے بچایا۔ آپریشن کے دوران ایک ٹرانسپورٹ ایئرکرافٹ کو ناکارہ ہونے پر تباہ کرنا پڑا۔
تنازعے کے وسیع تر اثرات
ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان 28 فروری سے جاری جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس تنازعے نے عالمی توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے جس سے مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
صورتحال میں ممکنہ شدت
صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں شدت پیدا کرنے کی دھمکی دی ہے اور آنے والے دنوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران امریکی افسر کو قیدی بنا لیتا تو اس سے امریکی عوامی رائے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایران کے ایک تہائی میزائل ذخیرے کو تباہ کر دیا ہے جبکہ ایک تہائی کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے۔ تنازعے کے دوران ایران نے بارہا امریکی ہوائی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

