خفیہ ذرائع کے مطابق، امریکی فوج ممکنہ طور پر ایران کے خلاف ہفتوں تک جاری رہنے والے ایک وسیع فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ آپریشن اس صورت میں شروع کیا جائے گا اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ حملے کا حکم دیتے ہیں۔
ڈپلومیسی اور فوجی تیاریاں ایک ساتھ
یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان ڈپلومیٹک رابطے بھی جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے، دونوں ممالک کے نمائندوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر عمان میں مذاکرات کیے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ نے خطے میں اپنی بحری طاقت میں اضافہ کر دیا ہے۔
آپریشن کی ممکنہ نوعیت
امریکی عہدیداروں کے مطابق، طویل مدتی آپریشن صرف ایران کے جوہری ڈھانچے تک محدود نہیں رہے گا۔ اس میں ایرانی ریاستی اور سیکیورٹی اداروں کی سہولیات بھی نشانہ بنائی جا سکتی ہیں۔
خطرات اور جوابی کارروائی کا خدشہ
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے آپریشن سے امریکی فوجیوں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی حملے خطے میں تنازعے کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایک عہدیدار کے مطابق، امریکہ کو توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا، جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔
بحری قوت میں اضافہ
امریکی عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے دستیاب تمام اختیارات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایرانی ردعمل اور مستقبل کی امید
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ سطحی یورینیم کو کم کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس پر لگائی گئی مالی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہیے اور یہ کہ یہ معاہدہ اگلے مہینے تک طے پا سکتا ہے۔

