امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر ہلاک، خلیج فارس میں کشیدگی بڑھی
خلیج فارس میں جاری تصادم کے نتیجے میں عالمی تیل کی سپلائی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ہمہ جہت حملوں میں کم از کم 201 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں مسلح افواج کے سربراہ اور وزیر دفاع بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ کی ایران کو ’ناقابل یقین طاقت‘ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں ایران کے 48 رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہماری کامیابی پر کوئی یقین نہیں کر سکتا۔ 48 رہنما ختم ہو گئے ہیں۔” انہوں نے ایران کو متنبہ کیا کہ اگر جوابی کارروائی کی گئی تو "ہم ان پر پہلے کبھی نہ دیکھی گئی طاقت سے حملہ کریں گے۔”
خلیجی ممالک اور تیل کی ترسیل کو خطرات
تصادم کے نتیجے میں خلیج فارس کے خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سعودی عرب نے ریاض ایئرپورٹ اور پرنس سلطان ائیربیس پر ایرانی میزائل گرائے جانے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے انہیں کامیابی سے تباہ کر دیا۔
خلیج میں کم از کم تین تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچا ہے۔ شپنگ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ امریکی یا اسرائیلی مفادات سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ روس نے خبردار کیا ہے کہ ہرمز کے آبنائے کی بندش سے عالمی تیل اور گیس کے بازاروں میں بڑی بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے۔
فوجی ہلاکتیں اور جوابی کارروائیاں
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف آپریشن میں تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری طرف، اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کے اہم حصوں کو تباہ کر دیا ہے اور تہران پر نئے حملے کیے ہیں۔
پینٹاگون نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے میزائل امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔ اس کے باوجود، خطے میں فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور عالمی رہنماؤں نے پرامن حل کی اپیل کی ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک میں قیادت کی منتقلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

