امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں سینکڑوں ہلاک، خطے میں جنگی صورت حال
15 مارچ 2026 کو مشرق وسطیٰ میں فوجی تناؤ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے شہر اصفہان سمیت مختلف علاقوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق صرف بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کا وسیع پیمانے پر حملوں کا اعلان
اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مغربی ایران میں "وسیع پیمانے پر” حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق یہ حملے ایرانی دہشت گرد ریجم کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں اور الزامات
ایران کے انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے الظفرة ایئر بیس میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق انہوں نے دس میزائل اور ڈرونز فائر کیے۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ خارگ جزیرے پر امریکی حملہ ان کے علاقے سے لانچ کیا گیا تھا۔
لبنان میں جاری تصادم اور ہلاکتیں
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ سنٹرز تباہ کر دیے ہیں۔ 28 فروری سے اب تک لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 826 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا علاقائی کمیٹی کا مطالبہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی نے کہا ہے کہ ایران حالیہ حملوں کی تحقیقات کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران نے کسی علاقائی ملک کے شہری یا رہائشی علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
خلیجی تناؤ میں اضافہ اور بین الاقوامی ردعمل
امریکہ نے عمان میں غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ جنوبی کوریا نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہرمز آبنائے میں جنگی جہاز بھیجنے کی درخواست پر احتیاط سے غور کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران میں گرفتاریاں اور اسرائیلی قیادت کو دھمکیاں
ایرانی حکام نے شمال مغربی ایران میں 20 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام ہے۔ ان پر ایرانی فوجی اور سیکیورٹی اثاثوں کی لوکیشن تفصیلات اسرائیل کو بھیجنے کا الزام ہے۔
اسی دوران ایران کے انقلابی گارڈز نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ گارڈز کے مطابق "اگر یہ بچوں کو مارنے والا مجرم زندہ ہے، ہم اسے پوری طاقت کے ساتھ نشانہ بناتے رہیں گے۔”
عراق میں امریکی ہیلی کاپٹر کریش
امریکی فوج نے عراق میں ایندھن بھرنے والے ہوائی جہاز کے کریش میں چھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خطے میں فوجی تناؤ انتہائی سطح پر ہے۔
تناؤ کا آغاز اور موجودہ صورت حال
تناؤ کے موجودہ دور کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا اور اب تک یہ جنگ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں پھیل چکی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے مکمل خاتمے کی طرف لے جانے والی کسی بھی پہل کا خیرمقدم کریں گے۔

