اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات بغیر معاہدے کے اختتام پذیر
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے اہم مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ دونوں ممالک کے درمیان 1979ء کے بعد اعلیٰ سطح پر ہونے والی یہ پہلی ملاقات بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوئی۔
اختلافات کی بنیادی وجوہات
رپورٹس کے مطابق، دونوں فریق ہرمز کے آبنائے کی ‘سکیپنگ لین’ پر کنٹرول اور کسی بھی معاہدے کے تحت تہران کو یورینیم افزودگی کے حق جیسے معاملات پر متفق نہیں ہو سکے۔
امریکی موقف
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد اسلام آباد چھوڑتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے تہران کو اپنا "حتمی اور بہترین پیشکش” دے دی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم یہاں سے ایک بہت سادہ تجویز لے کر جا رہے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔”
ایرانی ردعمل
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم نے "تعمیری اقدامات پیش کیے لیکن بالآخر دوسرا فریق اس دور مذاکرات میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا”۔
پاکستان اور عالمی رہنماؤں کی اپیل
مذاکرات کی میزبانی کرنے والے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ فریقین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جنگ بندی کے عہد پر قائم رہیں۔ انہوں نے کہا، "پاکستان نے اور آئندہ بھی اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان رابطے اور مکالمے کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔”
بین الاقوامی ردعمل
یورپی یونین کے ترجمان نے سفارت کاری کو "ضروری” قرار دیتے ہوئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے بات چیت میں ثالثی کی پیشکش کی۔
برطانوی وزیر صحت ویس سٹریٹنگ نے صورتحال کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا، "سفارت کاری میں، آپ کامیاب ہونے تک ناکام ہوتے ہیں۔” آسٹریلیائی وزیر خارجہ پینی وونگ نے جنگ بندی جاری رکھنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے پر زور دیا۔
آئندہ راستہ
اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی ٹھوس معاہدے پر دستخط کے بغیر ختم ہو گئے، لیکن عالمی برادری کی طرف سے جاری رہنے والی اپیلوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔ فوری طور پر جنگی کارروائیوں کی بحالی نہیں ہوئی ہے۔

