یوکرین ایران کے ڈرونز کے خلاف اپنی مہارت بروئے کار لانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں فوج بھیجے گا
یوکرین نے امریکی درخواست پر مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایران کے ڈرونز کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد کی جا سکے۔ صدر وولودیمیر زیلینسکی نے جمعرات کو اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست امریکہ کی جانب سے کی گئی تھی۔
صدر زیلینسکی کا اعلان اور امریکی درخواست
صدر زیلینسکی نے ایک ٹویٹ میں کہا، "یوکرین ان شراکت داروں کی مدد کر رہا ہے جو اس کی سلامتی کو یقینی بنانے اور اس کے شہریوں کی جانوں کی حفاظت میں اس کی مدد کرتے ہیں۔” انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مدد "جلد ہی” فراہم کی جائے گی۔
ایک نامعلوم یوکرینی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ "امریکی فریق نے درخواست کی، انہوں نے کہا: ‘براہ کرم'” اور "یوکرین نے ایسی امداد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔” عہدیدار نے فوجیوں کی تعداد سمیت تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا، "فی الحال، ہر چیز طے کی جا رہی ہے۔ ہم تفصیلات ظاہر نہیں کر سکتے۔”
یوکرین کی ڈرون مخالف مہارت اور تجربہ
چار سال سے زیادہ کی جنگ کے دوران یوکرین نے روسی ساختہ ڈرونز، جو بنیادی طور پر ایرانی ڈیزائن پر مبنی ہیں، سے نمٹنے میں قیمتی مہارت حاصل کی ہے۔ صدر زیلینسکی نے ٹیلی گرام پر لکھا، "ایران کے لڑاکا ڈرونز وہی شاہد ہیں جو ہمارے شہروں، دیہاتوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرتے ہیں۔ یوکرین زندگیاں بچانے اور صورتحال کو مستحکم کرنے میں شراکت کر سکتا ہے۔”
یوکرین کے مسلح افواج کے کمانڈر جنرل اولیکساندر سیرسکی کے مطابق، یوکرین کے تیار کردہ "روکنے والے ڈرونز” نے فروری میں کیئف اور اس کے مضافات میں پہنچنے والے 70% سے زیادہ روسی ڈرونز کو گرانے میں مدد دی۔
سستی اور مؤثر ٹیکنالوجی
صدر زیلینسکی نے ایک انٹرویو میں واضح کیا، "سینکڑوں یا ہزاروں شاہد ڈرونز پیٹریاٹ میزائل سے نہیں روکے جا سکتے، یہ بہت مہنگا ہے۔ اسی لیے انہیں ہمارے پاس موجود روکنے والے ڈرونز کی ضرورت ہے۔” رپورٹس کے مطابق، جہاں ایک میزائل کی لاگت 10 سے 20 لاکھ ڈالر ہے، وہیں ایک ایرانی خودکش ڈرون کی قیمت محض 20,000 سے 50,000 ڈالر ہے۔
مشن کی تفصیلات اور جیو پولیٹیکل اہمیت
یوکرینی عہدیداروں کے مطابق، "خلیج فارس میں یوکرینی فوجیوں کی آمد جلد متوقع ہے،” اور اس مشن کو کیسے انجام دیا جائے اس کا تعین کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے حل "کچھ دنوں سے لے کر کچھ ہفتوں میں” پیش کیے جا سکتے ہیں۔
یہ معاہدہ بلا معاوضہ نہیں ہے۔ بدلے میں، کیئف کو اپنے امریکی پیٹریاٹ سسٹمز کے لیے میزائل حاصل کرنے کی امید ہے، جو روس کے یوکرین کے خلاف استعمال ہونے والے بیلسٹک میزائلوں کو گرانے کے لیے ضروری ہیں، نیز کریملن کے خلاف سفارتی حمایت بھی درکار ہے۔
علاقائی دلچسپی اور طاقت کا توازن
یوکرین کی دفاعی صنعت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، یوکرین کے ڈرون مخالف نظاموں میں دلچسپی صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ خلیجی ممالک یعنی سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے "نجی اور سرکاری چینلز” کی طرف سے بھی "زبردست دلچسپی” ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ نہ صرف مصنوعات یا آلات کا معاملہ ہے، بلکہ یہ پیچیدہ حل ہیں جن میں آلات، حل اور ٹیمیں شامل ہیں۔ یہ ہمیں بڑی جیو پولیٹیکل طاقت دیتا ہے۔” یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یوکرینی صدر کو خدشہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ یوکرین کے لیے مختص مغربی فوجی وسائل، خاص طور پر فضائی دفاعی نظاموں، کو ہٹا سکتی ہے۔

