پیرس کے تاریخی آرک ڈی ٹرائمف کے نیچے واقع نامعلوم سپاہی کے مقبرے پر جمعہ کی شام ایک دہشت گردانہ حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی میں حملہ آور کو موقع پر ہی نیوٹرلائز کر دیا گیا۔
حملے کی تفصیلات اور فوری کارروائی
اطلاعات کے مطابق، ایک شخص نے مقبرے کے قریب تعینات ایک نیشنل جینڈمری اہلکار پر چاقو اور قینچی سے حملہ کیا۔ حملے کے فوری بعد موجود ایک دوسرے فوجی نے اپنی سروس گن استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کو گولی مار دی۔ نشانہ بننے والا جینڈرم محفوظ رہا کیونکہ چاقو اس کی وردی کے کالر سے ٹکرا گیا تھا۔ تاہم، حملہ آور کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت ہو گئی۔
حملہ آور کا تاریک ماضی
حملہ آور کی شناخت براہیم بی کے طور پر ہوئی ہے، جو ایک فرانسیسی شہری تھا۔ اسے 2013 میں برسلز کی عدالت نے دہشت گردی سے منسلک قتل کی کوشش کے الزام میں 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ وہ 2025 کے آخر میں سزا پوری کرنے کے بعد رہا ہوا تھا۔ رہائی کے بعد وہ انتظامی نگرانی کے تحت تھا اور اسے روزانہ تھانے میں حاضری دینا ضروری تھا۔ وہ سیکیورٹی اداروں کی ‘ایس’ فائل میں بھی درج تھا۔
حملے سے پہلے کی دھمکی اور ناکام الرٹ
ذرائع کے مطابق، حملے سے پہلے ملوث شخص نے اولنے-سوس-بوئس کے پولیس اسٹیشن کو فون کر کے دھمکی دی تھی کہ وہ "قتل عام” کرے گا اور "پولیس والوں کو مارے گا”۔ اولنے کے پولیس اہلکاروں نے الرٹ جاری کیا تھا، لیکن اس کی جیو لوکیشن صرف اس وقت کی جا سکی جب وہ حملے کی جگہ پر پہنچ چکا تھا۔
اعلیٰ سطحی ردعمل اور تحقیقات کا آغاز
واقعے کے بعد ایٹوئل چوک پر سیکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے۔ نامعلوم سپاہی کے مقبرے تک رسائی، بس اسٹاپس اور میٹرو اسٹیشنوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ اندرونی امور کے وزیر لارنٹ نیونیز نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں اس جینڈرم کو اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا جس نے "دہشت گردی کے خطرے کے سامنے خونسردی اور عزم کا مظاہرہ کیا”۔ صدر ایمانوئل میکرون نے بھی جینڈرموں کی کارروائی کو سراہا۔
قومی دہشت گردی مخالف پراسیکیوشن آفس نے فوری طور پر معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تحقیقات پیرس پریفیکچر آف پولیس کی اینٹی ٹیررازم سیکشن اور ڈی جی ایس آئی کو سونپی گئی ہیں۔

