سوڈان میں ہسپتال پر حملہ: 64 ہلاک، طبی سہولت مکمل غیر فعال
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے سوڈان کے صوبہ مشرقی دارفور میں جمعہ کے روز الدیعین ٹیچنگ ہسپتال پر ہونے والے حملے میں کم از کم 64 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم گیبریاسس نے کہا کہ اس حملے نے اس اہم سہولت کو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا ہے، جس سے پورے شہر میں بنیادی طبی خدمات منقطع ہو گئی ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں مریض اور طبی عملہ شامل
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں متعدد مریض، دو خواتین نرسز اور ایک مرد ڈاکٹر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں مزید 89 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں آٹھ طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ حملے سے ہسپتال کے پیڈیاٹرک، زچگی اور ایمرجنسی وارڈز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
تنازعہ کے دوران صحت کی سہولیات پر 2,000 سے زائد ہلاکتیں
ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ اس سانحے کے بعد سوڈان میں جاری جنگ کے دوران صحت کی سہولیات پر حملوں سے وابستہ ہلاکتوں کی کل تعداد 2,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوڈانی فوج اور پیرا ملٹری رپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان تقریباً تین سالہ تنازعہ کے دوران، ڈبلیو ایچ او نے صحت کی دیکھ بھال پر 213 حملوں میں 2,036 افراد کے قتل کی تصدیق کی ہے۔
انسانی بحران میں مسلسل اضافہ
فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جنگ اپریل 2023 کے وسط میں شروع ہوئی تھی۔ اس تنازعہ نے دنیا کے تیزی سے بڑھنے والے انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور 12 ملین سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین نے دونوں فریقوں پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا ہے۔
ڈبلیو ایچ او سربراہ کا امن اور تحفظ کا مطالبہ
ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا، "کافی خون بہہ چکا ہے۔ کافی تکلیف پہنچ چکی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سوڈان میں تنازعہ کو کم کیا جائے اور شہریوں، صحت کے کارکنوں اور انسان دوست کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔” حملے کے پیچھے کون تھا، اس بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں اور کسی فریق نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

