# بھارت کے ہاتھوں تاریخی شکست کے بعد شاہد آفریدی نے سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر بٹھانے کا مطالبہ کر دیا
ٹی20 ورلڈ کپ 2024 میں بھارت کے خلاف 61 رنز کی بھاری شکست کے بعد پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابر اعظم، شاہین آفریدی اور شاداب خان جیسے سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر بٹھا کر نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جانا چاہیے۔
## میچ کا مختصر احوال اور آفریدی کی سخت تنقید
اتوار کو کھیلے گئے اس اہم گروپ میچ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے۔ جواب میں پاکستانی بیٹنگ لائن اپ محض 18 اوورز میں 114 رنز بنا کر مکمل طور پر آؤٹ ہوگئی، جس کے نتیجے میں انہیں 61 رنز کی تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
شاہد آفریدی نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا، "بھارت کے خلاف میچ میں ہم نے بہت غلطیاں کیں۔ بھارت جیت کا حق دار تھا۔ کپتان سلمان علی آغا کے فیصلے بالکل سمجھ نہیں آئے۔ ہمارا جو ٹرمپ کارڈ تھا عثمان طارق، اسے 10 اوورز تک کیوں چھپائے رکھا؟”
### کپتانی کے فیصلوں اور شاہین کی بولنگ پر سوالات
سابق کپتان نے شاہین آفریدی کی بولنگ پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا، "شاہین نے بھی اچھی بولنگ نہیں کی۔ پہلے اوور میں رنز کھانے کے بعد بھی آخری اوور شاہین کو دیا گیا، جبکہ ہمارے پاس فہیم اشرف بھی موجود تھا۔”
## سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار
آفریدی نے زور دے کر کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کو طویل عرصے سے موقع دیا جا رہا ہے، لیکن جب بڑی ٹیموں کے خلاف اچھی کارکردگی کی امید کی جاتی ہے تو وہ مایوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اگر میرے ہاتھ میں فیصلہ ہو تو میں شاہین، شاداب خان اور بابر کو ٹیم سے باہر بٹھاؤں اور نئے لڑکوں کو موقع دوں۔”
### ٹورنامنٹ کی صورتحال اور آئندہ راستہ
بھارت کے خلاف شکست کے بعد پاکستان کا نیٹ رن ریٹ شدید متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ پوائنٹس ٹیبل پر امریکا سے نیچے آگئے ہیں۔ اب ٹیم کے لیے سپر ایٹ مرحلے میں جانے کیلئے اگلا میچ نمیبیا کے خلاف جیتنا لازمی ہوگیا ہے۔
شاہد آفریدی نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ نمیبیا کے خلاف اگلے میچ میں نئے لڑکوں کو موقع دیا جانا چاہیے، کیونکہ موجودہ سینئر کھلاڑی بڑے میچوں میں مطلوبہ پرفارمنس دینے میں ناکام رہے ہیں۔
## شکست کے بعد تبدیلی کے مطالبے کی گونج
شاہد آفریدی کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان بھارت سے گذشتہ چار ماہ میں چوتھی شکست کا سامنا کرچکا ہے۔ اس شکست کے بعد نہ صرف فینز بلکہ دیگر سابق کرکٹرز بھی ٹیم کی کارکردگی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ محمد یوسف جیسے سابق کھلاڑی بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ٹیم کو نئے پرفارمرز کی ضرورت ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ اس شکست کے بعد کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے اور کیا واقعی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی۔

