سینیٹ کمیٹی نے اسلام آباد کے ’سیف سٹی‘ نگرانی نظام میں اسرائیلی روابط پر سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اسلام آباد کے ’سیف سٹی‘ سرویلینس سسٹم کی سیکیورٹی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نظام میں کوئی بھی خامی وائی وی آئی پی کی نقل و حرکت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ تاہم، منصوبے کے حکام نے اصرار کیا کہ کیمرے اور ڈیٹا سرورز متعدد سائبرسیکیورٹی اقدامات سے محفوظ ہیں۔
ایران میں ہیکنگ کے بعد سیکیورٹی پر سوالات
بدھ کے روز ہونے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان کے زیرِ صدارت، قانون سازوں نے نگرانی کے نظاموں کی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ بحث تہران میں ٹریفک کیمرز کی حالیہ ہیکنگ کی رپورٹس کے بعد ہوئی۔
اسرائیلی ٹیکنالوجی سے ممکنہ تعلق پر تشویش
کئی سینیٹرز نے سوال اٹھائے کہ آیا سیف سٹی سسٹم میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کا اسرائیلی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے کوئی تعلق ہے۔
پی ایم ایل این کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا، "بہت سے عالمی سافٹ ویئر سسٹمز کی ابتدا اسرائیل سے ہے، جو وائی وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران ایک سنگین سیکیورٹی مسئلہ بن سکتا ہے۔”
جے یو آئی پی کے سینیٹر طلحہ محمود نے کمیٹی کو بتایا کہ اندرون ملک امور کی سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ان کے دور میں ایک انکوائری سے پتہ چلا تھا کہ اس منصوبے میں ملوک کمپنی کا ترکی میں دفتر ہے، لیکن اس کے روابط اسرائیل تک جاتے ہیں۔
حکام کی جانب سے سیکیورٹی کے یقین دہانیاں
سیف سٹی منصوبے کے حکام نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کمیٹی کو یقین دلایا کہ نگرانی کا نظام محفوظ ہے۔ منصوبے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ سائبر حملوں کو روکنے کے لیے فائر والز نصب ہیں اور وائی وی آئی پی کی نقل و حرکت کے لیے علیحدہ سیکیورٹی پروٹوکولز موجود ہیں۔
سافٹ ویئر کی ملکیت اور تکنیکی آڈٹ
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سیف سٹی سسٹم میں استعمال ہونے والا ’بریف کیمر‘ سافٹ ویئر 2021 میں نصب کیا گیا تھا اور اس وقت اس کی ملکیت ایک جاپانی کمپنی کے پاس ہے۔
نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی زیادہ تر ٹیکنالوجیز بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں اور حکام سائبر خطرات پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اب تک 15 سافٹ ویئر کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے۔
مزید تفصیلات طلب، ایم ٹیگز پر تنقید
کمیٹی نے اسلام آباد سیف سٹی سسٹم میں نصب سافٹ ویئر کی مکمل فہرست فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں اسلام آباد میں موٹرسائیکلوں پر الیکٹرانک ایم ٹیگز نصب کرنے کے منصوبے پر بھی تنقید کی گئی۔
سینیٹر کمران مرتضیٰ نے اس نظام کی افادیت پر سوال اٹھائے، جبکہ سینیٹر طلحہ محمود نے خبردار کیا کہ چوری شدہ ایم ٹیگز حملہ آوروں کو سیکیورٹی چیکس سے گزرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔
حکومتی اداروں میں ڈیٹا سیکیورٹی کے مسائل
کمیٹی نے حکومتی اداروں میں ڈیٹا سیکیورٹی کے خدشات پر بھی بات چیت کی۔ سینیٹر افنان اللہ نے دعویٰ کیا کہ نادرہ کا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت ہو رہا ہے۔ تاہم، نادرہ کے حکام نے کہا کہ ماضی میں ڈیٹا بیس صرف ایک بار ہیک ہوا تھا اور اب وہ محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا لیک دیگر اداروں سے ہو سکتا ہے جہاں لوگ اپنی ذاتی معلومات شیئر کرتے ہیں۔
اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کمیٹی کو بتایا کہ اسپیکٹرم پوزیشننگ کی اگلی بڈنگ جلد ہوگی اور تین بڑے ٹیلی کام آپریٹرز ضروری سامان درآمد کرنے کے بعد 5 جی کی ٹیسٹنگ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

