ایچ آئی وی مریض کی پی آئی ایم ایس میں وفات
اسلام آباد: ملک میں مونکی پاکس (مپاکس) سے منسلک دوسری ہلاکت سامنے آئی ہے جہاں فیصل آباد کے 53 سالہ شخص کا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں علاج کے دوران انتقال ہو گیا۔ صحت حکام نے تصدیق کی ہے کہ مریض ایچ آئی وی کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس بی اور سی کا شکار بھی تھا۔
سفر کی تاریخ نہ ہونے سے مقامی منتقلی کا انکشاف
حکام کے مطابق مریض کے پاس حالیہ بین الاقوامی یا مقامی سفر کی کوئی تاریخ دستیاب نہیں تھی۔ یہ امر اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ مونکی پاکس وائرس ملک کے اندر مقامی سطح پر پھیل رہا ہے۔ عوامی صحت کے ماہرین اسے برادری میں وائرس کی گردش کا واضح ثبوت قرار دے رہے ہیں۔
شدید مدافعتی کمزوری نے صورت حال گھمبیر بنائی
طبی ذرائع کے مطابق مرحوم شخص کا مدافعتی نظام انتہائی کمزور تھا اور اس کا سی ڈی 4 کاؤنٹ خطرناک حد تک کم تھا۔ معالجین کا کہنا تھا کہ مریض نے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی محض چند ماہ قبل ہی شروع کی تھی۔ ہسپتال میں داخلے سے قبل اسے جلد اور جننانگوں پر وسیع زخموں کی ایک ماہ کی تاریخ کا سامنا تھا۔
ملک میں 53 تصدیق شدہ کیسز ریکارڈ
وفاقی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس مونکی پاکس کے 53 تصدیق شدہ کیسز رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ زیادہ تر کیسز ہوائی اڈوں اور ہسپتالوں میں نگرانی کے نظام کے ذریعے شناسائی ہوئے۔ تاہم تازہ واقعہ میں سفر کی تاریخ نہ ہونا تشویشناک امر ہے۔
- عوامی صحت کے ماہرین نے ابتدائی ٹیسٹنگ پر زور دیا ہے
- مشتبہ مریضوں کی فوری علیحدگی کی ہدایت کی گئی ہے
- ہائی رسک گروپس کے لیے فوری علاج کی ضرورت ہے
حکومت کی جانب سے عوام کے لیے ہدایات
حکومتی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مونکی پاکس کووڈ-19 کی طرح ہوا سے پھیلنے والی بیماری نہیں ہے۔ بنیادی احتیاطی تدابیر میں مشتبہ افراد کے قریبی رابطے سے گریز اور غیر معمولی خارش یا جلد کے مسائل پر فوری طبی امداد حاصل کرنا شامل ہے۔ وزارت صحت نے نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

