اقوام اپنے ماضی کے ہیروز اور المیوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں، لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتن نے تاریخ کی تشریح کو ایک نئی خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پوتن قرون وسطیٰ کی تاریخ کو مسخ کر کے یوکرین پر اپنی جارحیت کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
یوکرین کی ریاستی حیثیت کا تاریخی انکار
یوکرین پر مکمل حملے سے چھ ماہ قبل، جولائی 2021 میں ایک طویل مضمون میں پوتن نے یوکرین اور بیلاروس کی علیحدہ قومی حیثیت ہی سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ روس، یوکرین اور بیلاروس کی قومیں "قدیم روس” کی وارث ہیں—ایک قرون وسطیٰ کی ریاست جو موجودہ دور کے تینوں ممالک کے علاقوں پر محیط تھی۔ پوتن کے بیانیے کے مطابق، اس دور میں یہ تمام خطے ایک ہی وطن کا حصہ تھے۔
ماہرین کی جانب سے خطرے کی گھنٹی
بین الاقوامی ماہرین اس رویے کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ روسیات کی ماہر کیرول گریماؤڈ نے خبردار کیا ہے کہ "یہ ایک خطرناک قسم کی تاریخی نظرثانی ہے۔” انہوں نے سابقہ یوگوسلاویہ میں جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "تاریخ دانوں نے کہا تھا کہ کوسوو کی زمینیں سرب کی ہیں۔ پھر اسے سیاسی طور پر استعمال کیا گیا اور یہیں سے خطرہ شروع ہوتا ہے۔”
تحقیق پر کنٹرول اور آرکائیوز بند ہونے کا عمل
تاریخ کے اس سیاسی استعمال کے ساتھ ہی روس میں آزاد تحقیقی کام پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ گریماؤڈ کے مطابق، "روس کے تاریخ دان اب آزادی سے کام نہیں کر سکتے۔ آرکائیوز بتدریج بند ہو رہے ہیں اور تحقیق کے موضوعات پر سخت پابندیاں ہیں۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ پوتن کے سرکاری بیانیے کے متبادل تاریخی شواہد تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
آزاد دنیا میں متبادل بیانیے کی کوششیں
اس تاریخی مسخ کاری کے مقابلے میں، بین الاقوامی علمی حلقے متبادل شواہد پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، فرانس کے کیمپس کونڈورسیٹ میں قائم ہونے والی ایک نئی علمی کرسی کا مقصد نووگورود کی پہلی تاریخ کو فرانسیسی میں ترجمہ کرنا ہے۔ یہ تاریخی متن ثابت کرتا ہے کہ نووگورود (قدیم روس کا ایک اہم شہر) خود کو ایک وسیع تر "قدیم روس” کا حصہ نہیں سمجھتا تھا، بلکہ اس کی اپنی الگ شناخت تھی۔
مستقبل کے لیے خطرہ اور عالمی چیلنج
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پوتن کی تاریخ کی یہ سیاسی تشریح نہ صرف یوکرین جنگ کی بنیادی وجہ ہے، بلکہ یہ خطے کی مستقبل کی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ فرانس میں مقیم روسی مورخ الیکسینڈر موسین کا کہنا ہے کہ "نووگورود کی تاریخ نے مشرقی یورپ کے مختلف خطوں میں ثقافتی اور قومی شناخت کے واضح فرق کو اجاگر کیا ہے۔” عالمی برادری کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ تاریخ کے اس مسخ شدہ بیانیے کا علمی اور اخلاقی طور پر مقابلہ کرے اور آزاد تحقیق کو تحفظ فراہم کرے۔

