صدر زرداری کا عالمی یوم آب پر بھارت سے مطالبہ: سندھ طاس معاہدہ بحال کیا جائے
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم آب کے موقع پر بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سندھ طاس معاہدہ 1960ء کو مکمل طور پر بحال کرے اور اپنے بین الاقوامی فرائض کی پاسداری کرے۔
معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر تشویش
صدر مملکت نے اپنے پیغام میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دانستہ طور پر پانی کے مشترکہ وسائل کو ہتھیار بنانا انتہائی تشویشناک عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام نے ہائیڈروولوجیکل ڈیٹا شیئرنگ کو متاثر کیا ہے، طے شدہ میکانزمز میں رکاوٹ پیدا کی ہے اور ایک طویل عرصے سے قائم بین الاقوامی معاہدے کے حروف و روح دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
معاہدہ معطل کرنے کی وجہ
سندھ طاس معاہدے پر کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب بھارت نے اپریل 2025 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے ایک حملے کے بعد معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی تفتیش کے پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔
لاکھوں افراد کی معیشت کو خطرہ
صدر زرداری نے خبردار کیا کہ ایسا رویہ خوراک اور معاشی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، ان لاکھوں افراد کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈالتا ہے جو ان پانیوں پر انحصار کرتے ہیں، اور بین الاقوامی قانون کے تحت سرحد پار وسائل کے انتظام کے لیے ایک خطرناک precedent قائم کرتا ہے۔
عالمی یوم آب اور صنفی مسائل
صدر مملکت نے کہا کہ اس سال عالمی یوم آب کا موضوع "پانی اور صنف” ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پانی کی عدم تحفظ یکساں طور پر محسوس نہیں کیا جاتا۔ محفوظ پانی گھر کے قریب دستیاب نہ ہونے کی صورت میں خواتین اور لڑکیوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے لاکھوں افراد کے روزمرہ کے چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بہت سے حصوں میں گھرانوں کو اب بھی دور یا غیر معتبر پانی کے ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ خواتین اور لڑکیاں پانی جمع کرنے میں روزانہ کئی گھنٹے صرف کرتی ہیں، یہ وہ وقت ہے جو وہ اسکول، کام یا اپنے خاندان کے ساتھ گزار سکتی تھیں۔
صاف پانی تک رسائی بنیادی حق
صدر مملکت نے زور دے کر کہا کہ صاف پانی اور صفائی تک رسائی ہمارے آئین کے تحت تسلیم شدہ بنیادی حق ہے۔ محفوظ اور معیاری پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنائے رکھنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے ہمارے پانی کے وسائل کا احتیاط سے انتظام، پانی کے نظام میں سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں خواتین کی زیادہ شمولیت درکار ہے۔
شہریوں کا کردار اور مستقبل کے چیلنجز
انہوں نے شہریوں کی جانب سے پانی کے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ گھرانوں اور برادریوں کو بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے جیسے اقدامات اپنا کر براہ راست حصہ ڈال سکتے ہیں۔
صدر زرداری نے پانی کے وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پانی ہماری زراعت، ہمارے شہروں اور ہمارے قدرتی ماحول کو برقرار رکھتا ہے۔ آبادیاتی مطالبات اور موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ، ہمیں پانی کا زیادہ احتیاط سے استعمال کرنا ہوگا۔

