پی سی بی چیئرمین کا وزیراعظم سے پی ایس ایل 11 میں تماشائیوں کی اجازت پر دوبارہ بات کرنے کا اعلان
کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کے دوران اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی اجازت کے حوالے سے دوبارہ بات چیت کریں گے۔
تماشائیوں کو واپس لانے کا عزم
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا، "میں وزیراعظم سے تماشائیوں کے حوالے سے دوبارہ بات کروں گا۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ پی سی بی اسٹیڈیم میں تماشائیوں کو واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
عالمی بحران اور ابتدائی فیصلہ
تاہم، پی سی بی چیئرمین نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے سے پیدا ہونے والے عالمی بحران کو مدنظر رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی سی بی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ پی ایس ایل کے میچز تماشائیوں کے بغیر منعقد ہوں گے۔
یہ فیصلہ حکومت کی عالمی ایندھن کے بحران کے پیش نظر بچت کے اقدامات کا حصہ بتایا گیا تھا۔ محسن نقوی نے ٹورنامنٹ کو صرف کراچی اور لاہور تک محدود رکھنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
فرنچائز مالکان کی درخواست
پی سی بی کے ابتدائی فیصلے کے بعد، متعدد فرنچائز مالکان نے تماشائیوں کی واپسی کی اپیل کی تھی اور زور دیا تھا کہ تماشائی لیگ کے ماحول اور شناخت کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ موجودہ ایڈیشن کے دوران اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی اجازت دی جائے۔
شیڈول میں تبدیلی سے انکار اور دیگر اعلانات
پی سی بی چیئرمین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودہ چیلنجز کے باوجود پی ایس ایل کے ہموار انعقاد کو یقینی بنانے پر تعریف کی۔ انہوں نے تماشائیوں کو واپس لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے شیڈول میں تبدیلی سے انکار کر دیا۔
محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ فرنچائزز کو گٹ منی دی جائے گی جبکہ اس سے متعلقہ اخراجات بورڈ برداشت کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نیشنل بینک کرکٹ ایرینا کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اس کا جائزہ لینے اور دوبارہ تعمیر کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔

