تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پی ایس ایکس میں تاریخی ریلی، انڈیکس 6.62 فیصد چڑھا
کراچی: عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور علاقائی منڈیوں میں بہتری کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے منگل کے روز زبردست ریلی دکھائی، جس میں بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 9,696.98 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انڈیکس 156,177.12 پوائنٹس پر بند ہوا، جو گذشتہ بندش کے مقابلے میں 6.62 فیصد زیادہ ہے۔ یہ انڈیکس کی تاریخ میں دوسری بڑی یومیہ بازیابی قرار دی جا رہی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا فوری اثر
تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں 11 فیصد تک تیزی سے کمی نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر فوری مثبت اثر ڈالا۔
سامیا اللہ طارق، ہیڈ آف ریسرچ پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی نے کہا کہ "تیل کی کم قیمتیں اور علاقائی منڈیوں میں بہتر رویہ مارکیٹ کی بحالی کا سبب بن رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز 11,015 پوائنٹس کی تاریخی گراوٹ کے بعد یہ ریلی مارکیٹ کی لچک کو ظاہر کرتی ہے۔
جیو پولیٹیکل بیانات اور عالمی رجحان
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے جلد ختم ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔ اس کے نتیجے میں:
- برینٹ کرڈن میں 4.17 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
- امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 3.81 ڈالر فی بیرل کم ہوا۔
دونوں معاہدوں میں 4 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔
ایشیائی منڈیوں میں ہم آہنگی
ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی زبردست ریلی دیکھی گئی، جس نے مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔
- جنوبی کوریا کے کاسپی انڈیکس میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
- ٹوکیو کے نککی 225 انڈیکس میں 2.9 فیصد چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا۔
ہانگ کانگ، شنگھائی، سڈنی، سنگاپور، بینکاک، ممبئی، تائی پی، منیلا اور جکارتہ میں بھی مثبت کاروبار دیکھا گیا۔
ماہرین کا تجزیہ
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے کہا کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی نے سرمایہ کاروں کو مقامی اسٹاکس میں جارحانہ خریداری پر آمادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریلی مارکیٹ کی بنیادی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔
سرکٹ بریکر اور مارکیٹ کی بحالی
یہ ریلی اس وقت سامنے آئی جب پی ایس ایکس میں پیر کے روز کاروبار عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا، جب کے ایس ای 30 انڈیکس میں 5 فیصد سے زیادہ کی کمی کے بعد مارکیٹ وائیڈ سرکٹ بریکر لاگو ہوا تھا۔ ایکسچینج کے مطابق، زیر التواء آرڈرز خودکار طریقے سے منسوخ کر دیے گئے تھے۔
مارکیٹ کے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں کم سطح پر برقرار رہیں تو اسٹاک مارکیٹ میں مزید بہتری کی توقع ہے۔ یہ ترقی اس وقت سامنے آئی ہے جب گذشتہ روز تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جس کے بعد پی ایس ایکس میں تاریخی گراوٹ دیکھی گئی تھی۔

