پاکستان اور سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کر لیا
اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب خطے میں جاری کشیدگی کو پرامن طور پر حل کرنے اور اسے مسلم ممالک کے درمیان وسیع تر تصادم میں بدلنے سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ یہ تفہیم جمعرات کو جیڈہ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں سامنے آئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا اہم دورہ
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کے مختصر دورے کے دوران یہ مذاکرات ہوئے۔ وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار تھے، جنہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کی۔ یہ بات چیت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہوئی۔
مذاکرات کے کلیدی نکات
ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں درج ذیل امور پر اتفاق رائے ہوا:
کشیدگی میں کمی اور پرامن حل
دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کشیدگی میں اضافہ روکنے اور تنازعات کے مذاکرات کے ذریعے حل کو یقینی بنانے کے لیے فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
مسلم دنیا میں اتحاد
دونوں ممالک نے اپنی مستقل پالیسی کی تجدید کی کہ مسلم دنیا کے اندر تصادم سے گریز کیا جائے اور ہر ممکن کوشش کی جائے کہ صورتحال مسلم ریاستوں کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی میں نہ بدلے۔
یکجہتی اور حمایت کا اظہار
پاکستانی وفد نے سعودی عرب کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا اظہار کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان ہمیشہ بادشاہت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
مقدس مقامات کے تحفظ پر زور
ذرائع کے مطابق، پاکستانی قیادت نے سعودی عرب کی اسلام کے مقدس ترین مقامات کے محافظ کے طور پر خاص اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے تحفظ کو پاکستان اور اس کی فوج کے لیے عزت اور ذمہ داری کا معاملہ قرار دیا گیا۔
ذرائع نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کومبیٹ وردی میں اجلاس میں شرکت کی علامتی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کیا، جسے پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کی سعودی عرب کی سلامتی کے عزم میں متحد ہونے کی علامت سمجھا گیا۔
قریبی تعلقات کی علامت
ذرائع نے انکشاف کیا کہ سعودی ولی عہد نے پاکستانی وفد کے لیے ایک خصوصی رات کا کھانا دیا، جس میں صرف وزیراعظم شہباز، نائب وزیراعظم ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر نے شرکت کی۔ اہلکاروں نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور خاص تعلقات کی عکاسی قرار دیا۔
مذاکرات میں دونوں فریق اس نتیجے پر پہنچے کہ خطے میں کشیدگی کے اس وقت دشمنی کو کم کرنا، مزید تصاعد کو روکنا اور مسلم دنیا کے اندر اتحاد کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔

