ہرمز آبنٹے کی بندش کے پیش نظر پاکستان نے سعودی بندرگاہ یَنبُو کے ذریعے متبادل تیل کی راہداری حاصل کرلی
اسلام آباد: ایران کی جانب سے ہرمز آبنٹے کو بند کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی بندرگاہ یَنبُو کے ذریعے تیل کی متبادل فراہمی کا راستہ طلب کر لیا ہے۔ یہ آبنٹا عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
سعودی سفیر سے اہم درخواست
پٹرولیم ڈویژن کے ایک بیان کے مطابق، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے بدھ کے روز اسلام آباد میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات میں یہ درخواست کی۔ وزیر نے سفیر کو خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور اس کے بین الاقوامی توانائی کے بازاروں پر اثرات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا زیادہ تر تیل اور توانائی کا ذخیرہ عام طور پر ہرمز آبنٹے سے گزرتا ہے۔
سعودی عرب کی فوری عملی مدد کا وعدہ
علی پرویز ملک کے مطابق، سعودی حکام نے پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کے لیے یَنبُو بندرگاہ کے ذریعے تیل کی فراہمی کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، "سعودی عرب پہلے ہی عملی مدد فراہم کر رہا ہے اور پاکستان کے لیے خام تیل لے جانے کے لیے یَنبُو بندرگاہ پر ایک جہاز روانہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔” وزیر نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ یَنبُو سے تیل کی فراہمی میں پاکستان کو ترجیح دی جائے گی۔
بھائی چارہ ممالک کی حمایت پر زور
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر ترقیات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور توانائی کے سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے فعال کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات میں بھائی چارہ ممالک، خاص طور پر سعودی عرب کی حمایت کو پاکستان کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
سعودی سفیر کی یقین دہانی
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ بادشاہت خطے کی ترقیات سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ سعودی عرب کسی بھی ہنگامی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کو بھائی چارہ قوموں کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ دونوں ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھیں گے، خاص طور پر مشکل وقت میں۔
ہرمز آبنٹے کی بندش کی دھمکی اور عالمی اثرات
یہ اقدام ایران کی جانب سے ایک سخت انتباہ کے بعد آیا ہے، جہاں اسلامی انقلابی گارڈز کے ایک سینئر اہلکار ابراہیم جباری نے اعلان کیا تھا کہ ہرمز آبنٹے بند کر دیا گیا ہے اور امریکہ-اسرائیل کے حملے کے بعد آبنٹے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، انقلابی گارڈز اور بحریہ کی افواج ٹرانزٹ کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز پر حملہ کریں گی۔ یہ ایران کی جانب سے اس اہم برآمدی راستے کو بند کرنے کی واضح دھمکی تھی۔
عالمی تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ
ہرمز آبنٹے کو دنیا کا سب سے اہم تیل برآمدی راستہ سمجھا جاتا ہے، جو خلیجی پیداواری ممالک بشمول سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔
دنیا کی روزانہ تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ ہرمز آبنٹے سے گزرتا ہے، جو اپنے تنگ ترین مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر تک تنگ ہو جاتا ہے۔ اس کی ممکنہ بندش کا عالمی تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر گہرا اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

