عیدالفطر کے موقع پر آپریشن غضب للہق میں عارضی تعطل کا اعلان
پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے اڈوں کے خلاف جاری آپریشن غضب للہق میں عیدالفطر کے موقع پر عارضی تعطل کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق یہ فیصلہ 18/19 مارچ کی آدھی رات سے 23/24 مارچ کی آدھی رات تک نافذ رہے گا۔
بھائی چارہ اسلامی ممالک کی درخواست پر فیصلہ
عطاء اللہ تارڑ نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری پوسٹ میں کہا کہ یہ فیصلہ اسلام آباد کی خودمختارہ تجویز اور سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت بھائی چارہ اسلامی ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ اقدام حسن نیت اور اسلامی اقدار کے مطابق پیش کر رہا ہے۔
سرحدی حملے کی صورت میں فوری کارروائی کی وارننگ
تاہم، وزیر اطلاعات نے واضح انتباہ جاری کیا کہ اگر سرحد پار سے کوئی حملہ، ڈرون حملہ یا پاکستان کے اندر کوئی دہشت گرد واقعہ پیش آیا تو فوجی آپریشن فوری طور پر نئی شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
آپریشن کے دوران ہونے والے نقصانات کا خلاصہ
وزیر اطلاعات نے آپریشن کے دوران ہونے والے نقصانات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 707 دہشت گرد ہلاک اور 938 زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان حکومت کے 255 چوکیاں تباہ اور 44 قبضے میں لی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 237 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے تباہ ہوئے ہیں۔ ہوائی حملوں میں افغانستان بھر میں 81 دہشت گرد اور معاون ڈھانچے نشانہ بنائے گئے۔
کابل اور ننگرہار میں ہدف
16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں افغان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ڈرون اسٹوریج، تکنیکی معاونت کے ڈھانچے اور گولہ بارود کے ذخائر تباہ کیے گئے تھے، جو افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر پاکستانی شہریوں کے خلاف حملوں میں استعمال کر رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کے ڈی جی کا انکشاف
بین الخدماتی تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا کہ حال ہی میں افغان حکومت نے بھارتی فراہم کردہ ڈرون پاکستان کے خلاف استعمال کیے تھے۔
انہوں نے افغان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ حالیہ پاکستانی حملوں میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ کابل پر حملہ گولہ بارود اور ڈرون ڈپو کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
پاک افغان کشیدگی کی وجوہات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں خودکش دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں مبینہ دہشت گرد اڈوں پر حملے کیے تھے۔ پاکستان نے بارہا کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
حالیہ سرحدی کشیدگی اس وقت دوبارہ بھڑک اٹھی جب افغان طالبان حکومت نے کئی سرحدی مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی، جس کا مقصد خوارجی گروہوں کو پاکستان میں داخل ہونے میں مدد فراہم کرنا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر 2025 میں قطر میں ایک جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گردی فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم، ترکی میں ہونے والی بعد کی بات چیت میں افغان حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

