امریکہ ایران کشیدگی: پاکستان کی ثالثی پر ٹرمپ نے فوجی کارروائی ملتوی کردی
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید فوجی حملوں کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کا اعلان اور پاکستان کا کردار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ گذشتہ دو دنوں میں ایران کے ساتھ مذاکرات "بہت اچھے اور پیداواری” رہے ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں دشمنیوں کے "مکمل اور کلی حل” کی امید کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو براہ راست صدر ٹرمپ سے بات چیت کی۔ ساتھ ہی، پاکستانی اہلکاروں نے ایران اور امریکہ کے درمیان خفیہ رابطوں کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں رابطے
گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران، پاکستان نے ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کا اہم فریضہ انجام دیا تاکہ تصادم کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے فون پر بات چیت بھی کی۔
پاکستان کی اس کوشش کا مقصد خطے میں استحکام کو برقرار رکھنا تھا۔
بین الاقوامی ردعمل اور جنگ کے اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل کی ہے۔ خطے میں طاقت کے مراکز مذاکرات اور مصالحت کو ترجیح دے رہے ہیں، جس میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پرامن حل کی امید
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس بحران کے پرامن حل کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں اور عالمی برادری خطے میں پرامن حل کے لیے اسلام آباد کے کردار کو سراہ رہی ہے۔

