# گرمی کی لہر میں بجلی کے بحران کا خطرہ، ایل این جی کارگو کی فوری تلاش
شدید گرمی کے باعث بجلی کی طلب میں غیر متوقع اضافے کے بعد پاکستان ممکنہ لوڈشیڈنگ کے بحران سے بچنے کے لیے فوری طور پر چار مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے کارگو درآمد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
## آبنائے حرمز بندش نے درآمدی منصوبے درہم برہم کیے
ذرائع کے مطابق، ایران کی جانب سے آبنائے حرمز کی دوبارہ بندش کے باعث قطر سے چار ایل این جی کارگو کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے پیٹرولیم ڈویژن کو اطلاع دی ہے کہ آبنائے حرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال کے مستحکم ہونے تک درآمدی عمل معطل رہے گا۔ یہ کارگو پی ایس او قطر انرجی کے ساتھ دو معاہدوں کے تحت درآمد کر رہا تھا۔
قطر انرجی نے 4 مارچ کو ایک قطر ایل این جی سہولت پر حملے کے بعد فورس میژر کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سے پاکستان درآمدی گیس کی فراہمی سے محروم چلا آ رہا ہے۔
## پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن سے مدد کی درخواست کی
پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن کو خط لکھ کر چار ایل این جی کارگو فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایل این جی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو ملک میں لوڈشیڈنگ کے اوقات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
خط میں واضح کیا گیا کہ ایل این جی کی عدم دستیابی کی صورت میں بجلی گھر مہنگے ڈیزل پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس سے نہ صرف پیداواری لاگت بڑھے گی بلکہ صارفین پر ایندھن ایڈجسٹمنٹ چارجز کی صورت میں اضافی مالی بوجھ بھی پڑے گا۔
## موجودہ صورتحال اور عارضی حل
پاور ڈویژن کو فی الحال بجلی کی پیداوار برقرار رکھنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے 400 ملین کیوبک فٹ فی دن گیس کی ضرورت ہے۔ تاہم، اسے فی الحال تقریباً 90 ملین کیوبک فٹ فی دن گیس مل رہی ہے۔ اگر آر ایل این جی دستیاب نہ ہوئی تو مئی میں اسے 160 ملین کیوبک فٹ فی دن تک گیس فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
ہائیڈرو پاور میں اضافے کی وجہ سے صورتحال میں وقتی بہتری آئی ہے، جس میں تربیلہ ڈیم سے روزانہ 30,000 کیوسک تک پانی چھوڑنے سے مدد ملی ہے۔
### گیس کی ترجیحات تبدیل کرنے کا منصوبہ
ذرائع کے مطابق، مئی میں سی این جی (کمپریسڈ نیچرل گیس) سیکٹر کو گیس کی فراہمی منقطع کر کے بجلی کے شعبے میں منتقل کر دی جائے گی۔ گھریلو شعبے کو صرف کھانا پکانے کے اوقات میں ہی گیس فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک کے مطابق، قطر انرجی کے پاس فی الحال 8 سے 10 لوڈ شدہ ایل این جی بحری جہاز دستیاب ہیں اور پاکستان قلیل مدتی بنیادوں پر ان کارگو سے زیادہ سے زیادہ مقدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

