خلیجی بحران اور معاشی اقدامات کے پیش نظر یوم پاکستان کی فوجی پریڈ معطل
وفاقی حکومت نے حالیہ خلیجی بحران اور نئے معاشی اقدامات کے تناظر میں یوم پاکستان کے موقع پر ہونے والی مرکزی فوجی پریڈ اور دیگر تقریبات منسوخ کر دی ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کے مطابق آئندہ پیر 23 مارچ کو یوم پاکستان "عزت و احترام کے ساتھ سادہ پرچم کشائی کی تقریب” کے ذریعے منایا جائے گا۔
معاشی بچت کے اقدامات کا تسلسل
یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف کے اعلان کردہ وسیع تر معاشی اقدامات کے تسلسل میں ہے۔ ان اقدامات میں سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں چار دن کام، گھر سے کام کے قواعد اور ایندھن کی بچت کے لیے اسکول بند کرنا شامل ہیں۔
خلیجی بحران کا پس منظر
پاکستان خلیج سے تیل اور گیس درآمد کرتا ہے۔ بحران کے دوران ایندھن کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے گزشتہ ہفتے ایندھن لے جانے والے جہازوں کو بحریہ کی اسکورٹ فراہم کی گئی تھی۔ تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں نے ملک میں پمپوں پر ایندھن کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں۔
حالیہ حملوں کے باعث تقریباً 4,000 افراد، بشمول طلباء، ہمسایہ ملک ایران سے واپس آ چکے ہیں۔
اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے ایندھن کے تحفظ اور معاشی اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے پیٹرولیم وزیر کو ہدایت کی کہ پاکستان کے پیٹرولیم درآمدی سپلائی چین کو بہتر بنانے کے لیے مزید کوششیں بڑھائی جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ صورتحال بہتر ہونے تک تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ریکارڈ برقرار رکھے جا رہے ہیں تاکہ کسی بے ضابطگی کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔
ایندھن کے ذخائر پر اطمینان
اس سے قبل وزیر خزانہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ ملک کے پاس مارچ کے لیے خام تیل اور اہم پیٹرولیم مصنوعات کے "آرام دہ ذخائر” موجود ہیں۔ اپریل کے دوران مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کافی منصوبہ بندی موجود ہے۔
ایک روایت کا اختتام
یوم پاکستان ہر سال 23 مارچ کو منایا جاتا ہے، جو ایک سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ اس موقع پر پورے ملک میں پریڈز، فوجی طیاروں کی پرواز اور ثقافتی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم، موجودہ حالات میں اس سال یہ روایت معیشت کے اقدامات اور بیرونی بحران کی نذر ہو گئی ہے۔

