پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں رمضان کے آخری جمعہ پر جامع مسجد کی بندش کی سخت مذمت کی
اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں واقع تاریخی جامع مسجد کی رمضان المبارک کے آخری جمعہ پر مسلسل بندش کی سخت مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔
مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار
وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ "پاکستان مقدس ماہِ رمضان کے آخری جمعہ پر سری نگر میں واقع تاریخی جامع مسجد کی مسلسل بندش کی سخت مذمت کرتا ہے۔ وادی میں انتہائی مقدس مساجد میں سے ایک میں نمازیوں کو اجتماعی نماز ادا کرنے سے روکنا مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔”
ساتویں مسلسل سال پابندی جاری
بیان میں مزید کہا گیا: "5 اگست 2019ء کے بھارت کے غیرقانونی اقدامات کے بعد ساتویں مسلسل سال، مقبوضہ حکام نے مسجد کو مہر بند کر دیا اور کشمیری مسلمانوں کو اس روحانی طور پر اہم دن پر نماز کے لیے جمع ہونے سے روک دیا۔ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں مذہبی عبادت پر ایسی پابندیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔”
عالمی برادری سے اپیل
وزارت خارجہ نے عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ان اقدامات پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ بیان میں بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہب کی آزادی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر یقینی بنائے۔
ثقافتی شناخت کا مرکز
یہ تاریخی مسجد کشمیری مسلمانوں کے لیے نہ صرف مذہبی بلکہ ثقافتی شناخت کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اس کی بندش کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے عالمی فورمز پر اس مسئلے کو بارہا اٹھایا جا چکا ہے۔

