امریکہ ایران جنگ بندی کو مستحکم بنانے کی کوشش، فیلڈ مارشل اسیم منیر کا تہران میں اعلیٰ سطحی دورہ
پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل اسیم منیر نے ایران کے سرکاری دورے کے دوران تہران میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔ ایرانی میڈیا نے جمعرات کی شام اس ملاقات کی تصدیق کی۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کا دورہ اور فوجی تعاون
فیلڈ مارشل اسیم منیر نے تہران میں ایران مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کیا۔ خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون اور باہمی مفاہمت کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دو ہفتوں کی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کی پاکستانی کوشش
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل منیر کا ایران کا یہ دورہ پاکستان کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے۔ پاکستانی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل تھے جنہیں تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس آراغچی نے خوش آمدید کہا۔
ایرانی قیادت سے کلیدی ملاقاتیں
دورے کے دوران آرمی چیف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی اور ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ دونوں ایرانی رہنما اس وفد کا حصہ تھے جنہوں نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکی وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے تھے۔
ثالثی کے مثبت اثرات اور اختلافات میں کمی
وزیراعظم شہباز شریف کی ثالثی پر 8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی تھی جس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل منیر کے تہران دورے سے کچھ شعبوں میں اختلافات کم ہوئے ہیں جس سے جنگ بندی میں توسیع اور واشنگٹن و تہران کے درمیان نئے مذاکرات کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی ثالثی نے مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کی تعریف اور مرکزی کردار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل اسیم منیر کی پاکستان کی ثالثی کوششوں میں کلیدی کردار کی بار بار تعریف کی ہے۔ نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا، "وہ (فیلڈ مارشل) شاندار ہیں اور اسی وجہ سے یہ زیادہ ممکن ہے کہ ہم دوبارہ وہاں (پاکستان) جائیں۔” صدر ٹرمپ فیلڈ مارشل منیر کو اپنا "پسندیدہ فیلڈ مارشل” کہتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران فیلڈ مارشل منیر مرکزی کردار میں تھے اور انہوں نے دونوں وفود کا استقبال کیا تھا۔ یہ تعلق اس وقت مضبوط ہوا جب گزشتہ سال پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مختصر لیکن شدید فوجی تصادم کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں میں فیلڈ مارشل منیر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

