# پاک فوج کے سربراہ کی ایران میں اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں، کشیدگی کم کرنے پر زور
**تہران:** پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا محور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششیں تھیں۔
ایرانی حکام کے مطابق، یہ ملاقات جمعہ کی رات دیر گئے تک جاری رہی۔ گفتگو کا مرکز مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات پر تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس دورے پر تہران پہنچے ہیں جس کا مقصد پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔
## اعلیٰ ایرانی قیادت سے علیحدہ ملاقاتیں
فیلڈ مارشل منیر نے ایرانی وزیر خارجہ کے علاوہ صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کی مجموعی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، فیلڈ مارشل کو تہران پہنچنے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے استقبال کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا منصوبہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے۔
## اسلام آباد میں پہلے دور کے مذاکرات
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو جنگ بندی کے بعد 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا۔ اگرچہ یہ مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے اختتام پذیر ہوئے، تاہم بات چیت کا سلسلہ مکمل طور پر تعطل کا شکار نہیں ہوا۔
دوسری جانب، ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے امریکہ پر "ضرورت سے زیادہ مطالبات” رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے "ڈپلومیسی کے ساتھ بار بار غداری، ایران کے خلاف فوجی جارحیت، متضاد موقف اور بار بار ضرورت سے زیادہ مطالبات” کے باوجود تہران سفارتی عمل میں مصروف ہے۔
## نئی کارروائیوں کے امکانات اور آبنائے ہرمز کی صورت حال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے رک رک کر جاری رہنے والے مذاکرات کو نئے حملوں اور معاہدے کے درمیان "سرحدی” کیفیت سے تعبیر کیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
دریں اثنا، آبنائے ہرمز کی صورت حال بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، آبنائے ہرمز کی حیثیت اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ ممکنہ جنگ سے پہلے کے تیل کے ذخائر ختم ہونے سے عالمی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

