ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی، برینٹ 105 ڈالر سے اوپر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو "انتہائی سخت” مارنے کے وعدے نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ صدر کے قوم کے نام خطاب نے ہرمز آبنائے کے بحران کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
قیمتوں میں یکدم چھلانگ
بین الاقوامی معیار برینٹ کرڈل کی قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا جو 105.55 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) میں بھی 3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اس کی قیمت 103.16 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے خطاب سے قبل دونوں معاہدوں کی قیمتیں گر رہی تھیں۔
خطاب نے جنگ ختم ہونے کی امیدیں کیں دھری
ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل کی ایک ماہ طویل جنگ کے خاتمے کی امید نے گذشتہ دو سیشنز میں عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو تقویت دی تھی۔ تاہم، ٹرمپ نے اپنے پرائم ٹائم خطاب میں کہا کہ امریکہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران کو "انتہائی سخت” مارے گا اور ملک کو "پتھر کے دور” میں پہنچا دے گا۔ انہوں نے دوسرے ممالک پر زور دیا کہ وہ ہرمز آبنائے کو دوبارہ کھلوانے میں مدد کریں۔
اسٹاک مارکیٹوں پر منفی اثرات
صدر کے بیان کے بعد اسٹاک مارکیٹیں پھر سے گرنے لگیں۔ امریکی اسٹاک فیوچرز 0.67 فیصد گر گئے جبکہ یورپی فیوچرز 0.1 فیصد کم ہوئے۔ ایشیا پیسیفک کے حصص کی ایم ایس سی آئی کے وسیع انڈیکس میں 0.75 فیصد کی کمی آئی۔ جاپان کے نککی انڈیکس نے بھی اپنا رخ موڑ کر اتار چڑھاؤ والی تجارت میں 0.79 فیصد کمی دکھائی۔
ہرمز آبنائے کا بحران مرکزی نقطہ
تجزیہ کار اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ اسٹریٹ آف ہرمز، جو عالمی ایندھن کی ترسیل کا ایک بڑا راستہ ہے، کب اور کیسے دوبارہ کھلے گی۔ اس کے بند ہونے سے رسد میں رکاوٹ نے ایشیائی معیشتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایران نے ہرمز آبنائے کو ایک استراتژک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، خلیجی ممالک پر بارہا فائرنگ کی ہے۔ یہ آبنائے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کے پانچویں حصے کی ترسیل کرتی ہے۔
مہنگائی اور معاشی خدشات
مارچ میں توانائی کی بلند قیمتوں نے عالمی مہنگائی کے خدشات کو ہوا دی ہے، جبکہ معاشی نمو کے سست پڑنے کے بارے میں فکرمندی بھی جذبات کو متاثر کر رہی ہے۔ اس ہلچل کے دوران سرمایہ کاروں کے لیے امریکی ڈالر محفوظ پناہ گاہ بنا رہا اور صدر کے خطاب کے بعد یہ زیادہ تر کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہوا۔

