تیل کی صنعت نے پیٹرول پمپوں پر الیکٹرک گاڑیوں کے لازمی چارجرز کے قواعد پر نظرثانی کی اپیل کردی
کراچی: آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے حکومت سے پیٹرولیم ریٹیل آؤٹ لیٹس پر الیکٹرک گاڑیوں کے لازمی چارجنگ کے تقاضوں کا جائزہ لینے کی اپیل کی ہے، جس کی وجہ کم تعداد میں الیکٹرک گاڑیاں اور بھاری سرمایہ کاری کو قرار دیا گیا ہے۔
پالیسی پر تشویش اور تجاویز
کونسل نے نئی انرجی وہیکلز (این ای وی) پالیسی کے تحت پیٹرول پمپوں پر 10 فیصد چارجنگ اسٹیشنز لازمی قرار دینے کی شرط پر تشویش کا اظہار کیا۔ او سی اے سی نے مشورہ دیا ہے کہ نئے ریٹیل آؤٹ لیٹس کی منظوری اور چارجنگ اسٹیشنز لگانے کی لازمی شرط کے درمیان تعلق ختم کیا جائے۔
انہوں نے ان ہدایات کے فوری جائزے کا مطالبہ کیا ہے جو نئے آؤٹ لیٹس کی منظوری کے لیے ای وی چارجرز کی تنصیب کو لازم قرار دیتی ہیں۔
مارکیٹ کی حقیقت اور اہداف میں فرق
پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے نام خط میں کونسل نے واضح کیا کہ 2030 تک ریٹیل آؤٹ لیٹس پر 10 فیصد چارجنگ کی دستیابی کا ہدف موجودہ مارکیٹ کی صورت حال سے میل نہیں کھاتا۔
اعداد و شمار کے مطابق، نومبر 2025 تک ملک بھر میں صرف 2,700 سے 3,000 الیکٹرک گاڑیاں تھیں، جبکہ اس عرصے کا ہدف 125,000 گاڑیاں طے کیا گیا تھا۔
سرمایہ کاری اور آپریشنل چیلنجز
او سی اے سی کے مطابق ایک لیول 3 چارجنگ اسٹیشن لگانے میں 15 سے 20 ملین روپے تک کی خطیر سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، جس میں گرڈ کنیکشن کی اضافی لاگت شامل نہیں۔
فی الحال، ملک بھر میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے قائم کردہ تقریباً 15 چارجنگ اسٹیشنز میں سے اکثر کم استعمال کی وجہ سے نقصان میں چل رہے ہیں اور صرف چند ہی آپریشنل بریک ایون تک پہنچ پائے ہیں۔
عالمی رجحانات اور مقامی نفاذ
کونسل نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر ای وی چارجنگ زیادہ تر رہائشی مقامات، تجارتی کمپلیکسز، ہسپتالوں اور شاپنگ مالز پر کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پیٹرول پمپ تیز سروس ٹرن اوور کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی کے مرحلے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو شامل نہیں کیا گیا، جن سے اس انفراسٹرکچر کو نافذ کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔
مستقبل کے لیے تجویز کردہ فریم ورک
او سی اے سی نے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی وزارتوں، اوگرا، اور نیوشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی کے مشورے سے ایک مرحلہ وار، طلب پر مبنی اور تجارتی طور پر پائیدار نفاذی فریم ورک تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔
کونسل کا مؤقف تھا کہ جب ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی قابل عمل تعداد اور مالیاتی فریم ورک موجود ہوگا، تو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تجارتی بنیادوں پر چارجنگ انفراسٹرکچر کو وسعت دیں گی، جیسا کہ ان کا کمپریسڈ نیچرل گیس جیسے متبادل ایندھنوں کے ساتھ تجربہ رہا ہے۔

