امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں جنگی کشیدگی، چھ امریکی فوجی ہلاک
تیہران اور بیروت پر امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی تباہ کن جنگ کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی فوجی کمان (سینٹ کوم) نے ایران کے ساتھ جاری تصادم میں چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
فریقین کے بیانات اور جوابی کارروائیاں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیٹن یاہو نے حالیہ فوجی کارروائیوں کو ’امن کا دروازہ‘ قرار دیا ہے۔ تاہم، ایران کے ترجمان نے کسی بھی ’ایرانی خطرے‘ کے وجود سے انکار کرتے ہوئے امریکی موقف کو مسترد کیا ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین، اردن اور عراق میں غیر ہنگامی عملے کو روانہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
حزب اللہ کے دعوے
لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ نے اسرائیل کے تین فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کے ترجمان کے مطابق، یہ حملے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے متعدد شہروں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے شمالی اسرائیل میں رامات ڈیوڈ ایئر بیس اور میران بیس پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے پر اثرات
اس بحران نے خطے کی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ کمپنی ایمیزون نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اس کے دو ڈیٹا سینٹر ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، جس سے خطے کے کچھ حصوں میں کلاؤڈ سروسز متاثر ہوئیں۔ بحرین میں ایک سہولت کو بھی قریبی ڈرون حملے سے نقصان پہنچا ہے۔
جوہری پروگرام پر امریکی الزامات
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے گذشتہ مذاکرات میں کہا تھا کہ ان کے پاس گیارہ جوہری بم بنانے کے لیے کافی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کی جوہری سہولیات کو تباہ کر دیا ہے۔
سفارتی ردعمل اور داخلی صورتحال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے ساتھ تعلقات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات ’واضح طور پر پہلے جیسے نہیں رہے‘۔ دوسری جانب، ایران میں خواتین نے سڑکوں پر نکل کر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سوگ منایا۔
فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور یہ تنازعہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ تمام فریقین نے اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے ایک بڑے تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

