کے-فور پائپ لائن کی تنصیب میں تیزی، نیپا میں روزانہ دو بڑے پائپ بچھانے کا ہدف
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو اینڈ ایس سی) نے کراچی کے لیے اہم ترین پانی کی فراہمی کے منصوبے کے-فور پر کام کی رفتار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق، نیپا میں واقع مقام پر اب ٹیمیں روزانہ دو بڑے پائپ بچھانے کا ہدف لے کر آگے بڑھ رہی ہیں تاکہ اس منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جا سکے۔
مشترکہ راستے پر تکنیکی چیلنجز
کے ڈبلیو اینڈ ایس سی کے عہدیداروں نے بتایا کہ کے-فور پائپ لائن کی تنصیب کا کام بی آر ٹی ریڈ لائن کے ساتھ مشترکہ 2.7 کلومیٹر طویل حصے پر جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی اور حفاظتی رکاوٹوں کے باوجود منصوبہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
پروجیکٹ کے ترجمانوں کے مطابق، ایسے علاقے میں چھ میٹر گہری کھدائی کی جا رہی ہے جو پہلے ہی بی آر ٹی کی تعمیر، زیر زمین پانی و سیوریج لائنیں، ایس ایس جی سی کے پریشر پائپ اور کے الیکٹرک کی کیبلز کی وجہ سے گنجان ہے۔ کچھ مقامات پر صرف پانچ فٹ کام کرنے کی جگہ دستیاب ہے، جس کے لیے جدید اور احتیاط سے منظم کھدائی کی تکنیک اپنائی جا رہی ہے۔
عوامی تکلیف پر معذرت اور احتیاطی تدابیر
کے ڈبلیو اینڈ ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی نے کھدائی کے کام سے مقامی رہائشیوں، دکانداروں، مسافروں اور خاص طور پر طلبہ کو ہونے والی تکلیف پر معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ بروقت کام مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ موجودہ بنیادی ڈھانچے اور عوام دونوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
پچھلی رکاوٹوں پر قابو
حکام کے مطابق، نومبر میں دو الگ الگ واقعات میں یوٹیلیٹی لائنوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے کام عارضی طور پر رک گیا تھا۔ تاہم، ٹیم نے دوبارہ رفتار پکڑ لی ہے اور اب تک 36 پائپ کامیابی سے بچھا دیے گئے ہیں۔
اعلیٰ سطحی توجہ اور منصوبے کی اہمیت
احمد علی صدیقی نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی حالیہ دورے کے بعد منصوبے پر دی جانے والی خاص توجہ کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کے-فور منصوبے کا بروقت اور معیاری تکمیل ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
سندھ حکومت اور کے ڈبلیو اینڈ ایس سی کے اس اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے سے کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن اضافی پانی فراہم ہونے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ روزانہ کی پیش رفت کے باقاعدہ اپ ڈیٹس کارپوریشن کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیے جا رہے ہیں۔

