اسرائیل کے شدید ترین فضائی حملوں میں 89 ہلاک، حزب اللہ نے فائرنگ میں عارضی وقفہ دے دیا
اسرائیل نے لبنان پر حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازعے کے دوران اب تک کے سب سے شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 89 افراد ہلاک اور 700 زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے بعد حزب اللہ نے شمالی اسرائیل اور لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر اپنے حملوں میں عارضی وقفہ دے دیا ہے۔
بیروت اور دیگر علاقوں میں تباہی
مسلسل دھماکوں نے بیروت کو ہلا دیا، جس سے دارالحکومت میں دھوئیں کے بادل اٹھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، انہوں نے جنگ کا سب سے بڑا مربوط حملہ شروع کیا ہے جس میں بیروت، بقاع ویلی اور جنوبی لبنان میں 100 سے زیادہ حزب اللہ کمانڈ سینٹرز اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ہلاکتوں اور انخلا کا خوفناک منظر
لبنان کے صحت عامہ کے ترجمان کے مطابق حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ایک درجن طبی کارکن بھی شامل ہیں۔ بیروت میں، رائٹرز کے نامہ نگاروں نے دیکھا کہ لوگ موٹر سائیکلوں پر زخمیوں کو اٹھا کر ہسپتال لے جا رہے تھے کیونکہ ایمبولینسز کی تعداد ناکافی تھی۔ لبنانی حکام کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک 1,500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 130 سے زیادہ بچے اور 100 خواتین شامل ہیں، جبکہ 12 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
حزب اللہ کا عارضی وقفہ اور اسرائیل کا ردعمل
حزب اللہ کے تین ذرائع کے مطابق گروپ نے بدھ کی صبح اسرائیلی اہداف پر حملے بند کر دیے۔ تاہم، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
جنگ بندی کی خلاف ورزی کے دعوے
حزب اللہ کے سینئر قانون ساز ابراہیم الموسوی نے کہا، "حزب اللہ کو اطلاع دی گئی تھی کہ یہ جنگ بندی کا حصہ ہے – اس لیے ہم نے اس کی پابندی کی، لیکن اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح اس کی خلاف ورزی کی اور پورے لبنان میں قتل عام کیا۔” ایک اور قانون ساز حسن فضل اللہ نے اسرائیلی حملوں کو "جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔
بین الاقوامی ردعمل اور عوامی اضطراب
فرانس کے صدر ایمانوئل میکخوں نے لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے پر زور دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے اسرائیلی حملوں کی سختی سے مذمت کی ہے۔
بیروت کے جنوبی مضافات سے بے گھر ہونے والے 54 سالہ احمد حرم نے کہا، "امید ہے کہ جنگ بندی ہو جائے گی۔ لبنان اب مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ ملک معاشی طور پر گر رہا ہے، اور ہر چیز تباہ ہو رہی ہے۔” جنوبی شہر صیدا میں ایک اسکول میں پناہ لینے والے خاندانوں نے گھر واپس جانے کی امید ظاہر کی ہے۔

