دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے تارلے میں واقع امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ پر جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے خودکش دہشت گرد حملے نے ملک بھر کو سوگوار کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس ہولناک واقعے میں کم از کم 31 نمازی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ حملے کے بعد دارالحکومت میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل: دہشت گردی کی یکساں مذمت
اس المناک واقعے پر دنیا بھر سے مذمت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ "دہشت گردی اور تشدد کی تمام کارروائیاں ناقابل قبول ہیں” اور شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف تشدد کو کسی صورت جواز نہیں دیا جا سکتا۔
پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین ماریوٹ نے خود کو "سخت غمگین اور دکھی” قرار دیتے ہوئے شہداء اور زخمیوں کے لیے دعاؤں کا اظہار کیا۔ اسی طرح چینی سفارت خانے نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ چین اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
علاقائی اور عالمی اتحادیوں کا اظہار یکجہتی
ایرانی سفیر رضا امیری مغادم نے حملے کو "گھناؤنا فعل” قرار دیتے ہوئے ایران کی حکومت اور عوام کی طرف سے مذمت کا اظہار کیا۔ ترکی کے وزارت خارجہ نے بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔
یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کروبلس نے حملے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اسے "وحشیانہ فعل” قرار دیا۔ افغانستان کے وزارت خارجہ نے بھی اس خودکش حملے کی مذمت کی ہے جس میں مقدس رسومات اور مساجد کی حرمت کو پامال کیا گیا۔
ملکی قیادت کا ردعمل اور تحقیقات
صدر مملکت آصف علی زرداری نے دھماکے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کی فوری شناخت اور گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔
حملے کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو دارالحکومت کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر کے ثبوت جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے مرکزی دروازے پر گارڈز کی طرف فائرنگ کی جس کے بعد اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت معاشرے کے تمام طبقات اور مذاہب کے ماننے والوں کے لیے یکساں خطرہ ہے۔ عالمی یکجہتی کے بیانات کے باوجود، اس المیے نے پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے تحفظ کے چیلنجوں کو یکلخت اجاگر کر دیا ہے۔

