ایران کے نئے میزائل حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے گیارہویں دن ایران کے انقلابی گارڈز نے منگل کے روز اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف پر نئی میزائل فائرنگ کا اعلان کیا۔ ایران کے جانبدارانہ دعوے کے مطابق، یہ حملہ اس کے سب سے طاقتور اسٹریٹجک میزائل سسٹمز بشمول فاتح، عماد اور خیبر کے ذریعے کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی تنقید اور اسرائیلی دعویٰ
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مشرق وسطیٰ میں جنگجو گروہوں کے درمیان ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل خطے میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
ادھر، اسرائیلی فوج کے ایک نامعلوم اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے فائر کیے جانے والے تقریباً 50 فیصد میزائلز کلاسٹر وارہیڈز سے لیس ہیں، جو دس کلومیٹر کے دائرے میں چھوٹے چھوٹے بم پھیلاتے ہیں۔ دونوں ممالک 2008 کی کلاسٹر میزائلز کنونشن کے فریق نہیں ہیں۔
ہرمز آبنائے سے بحری گزرگاہ کھلی، تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی
امریکی بحریہ نے منگل کو ہرمز آبنائے سے پہلا تیل بردار جہاز کامیابی سے گزارا۔ یہ آبنائے جنگ کے باعث تقریباً ایک ہفتے سے بند تھی اور دنیا کی کل تیل کی پیداوار کا پانچواں حصہ یہیں سے گزرتا ہے۔ اس خبر کے فوری بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی۔
برینٹ کروڈ 15.03 فیصد گر کر 84.09 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 15.46 فیصد گر کر 80.12 ڈالر فی بیرل پر آگئیں۔ یہ قیمتیں گذشتہ چند دنوں میں 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد گر رہی ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی اقدامات
رہنماؤں کے بیانات
ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو ’کھوکھلا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلیفونک بات چیت میں تنازعے کی ’تیز رفتار ڈی اسکیلیشن‘ کا مطالبہ کیا۔ ایرانی صدر نے روس کی حمایت اور انسان دوست امداد کے لیے شکریہ ادا کیا۔
سفارتخانوں کی منتقلی
نیدرلینڈز، آسٹریا، ڈنمارک، اٹلی اور سپین سمیت کئی ممالک نے ایران میں اپنے سفارتخانوں کو عارضی طور پر بند کرنے یا انہیں آذربائیجان منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس نے بھی ایران میں اپنے سفارتخانے سے خواتین اور بچوں کو نکال لیا ہے۔
لبنان میں صورت حال سنگین
اسرائیلی فوج نے لبنان کے جنوبی شہروں صور اور صیدا میں حزب اللہ کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے قریبی فضائی حملوں کی وارننگ جاری کی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے منگل کو بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا۔ لبنان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 100,000 سے زائد نئے افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
عالمی اقتصادی اثرات
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے جنگ میں ’خطرناک اسکیلیشن‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانس نے حزب اللہ سے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیل سے لبنان میں بڑے پیمانے پر مداخلت سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی تیل اور گیس کی مارکیٹیں جنگ سے شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں یورپ میں گیس کی قیمتیں 15 فیصد گر گئی ہیں۔

