اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹوشاخانہ-2 مقدمے میں سنائی گئی سزا کی معطلی اور طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 73 سالہ رہنما کو دائیں آنکھ کی سنگین بیماری لاحق ہے جس کا جیل کے اندر مناسب علاج ممکن نہیں۔
بینائی کے شدید خطرے کی طبی تفصیلات
درخواست میں پیش کیے گئے طبی دلائل کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ میں خون جم جانے (ہائفیما) کے باعث بینائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ میں اب صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔ درخواست میں زور دیا گیا ہے کہ یہ طبی پیچیدگی اتنی سنگین ہے کہ اس کا علاج جیل کی حدود کے اندر ممکن نہیں اور ماہر امراض چشم کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
سیاسی استحصال کے سنگین الزامات
درخواست میں ٹوشاخانہ-2 مقدمے میں سزا کو سیاسی استحصال کے جاری مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے عمران خان اور ان کی اہلیہ پر مختلف دائرہ اختیارات میں متعدد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ درخواست میں تین اہم نکات نمایاں کیے گئے:
- نیب، ایف آئی اے اور الیکشن کمیشن کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا
- عدالتی کارروائیوں کو سیاسی اسکور سیٹل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا
- قانونی اداروں کے وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے بروئے کار لایا گیا
ٹوشاخانہ-2 مقدمے کا قانونی پس منظر
ٹوشاخانہ-2 مقدمے میں تحقیقات نیب نے شروع کی تھیں جس میں ایک مہنگے بلگاری زیورات کے سیٹ کو معمولی قیمت پر حاصل کرنے کا معاملہ زیرِ بحث تھا۔ نیب نے جولائی 2024 میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا اور جوڑے نے 37 دن ایڈیالہ جیل میں نیب کی تحویل میں گزارے۔
خصوصی جج شاہرخ ارجمند نے 80 سماعتوں کے بعد دونوں کو دو الزامات میں مجرم قرار دیا۔ فیصلے کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 اور 409 کے تحت 10-10 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ کرپشن کے خلاف ایکٹ 1947 کی دفعہ 5 کے تحت مزید 7-7 سال قید کی سزا دی گئی۔ دونوں پر مجموعی طور پر 1 کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
القادر ٹرسٹ کیس میں بھی فوری سماعت کا مطالبہ
عمران خان کی جانب سے ایک علیحدہ درخواست میں القادر ٹرسٹ کیس یا 190 ملین پاؤنڈز کے اسکینڈل میں سزا کی معطلی کی اپیل کی فوری سماعت کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے پاس نہ صرف معاملے کی نوعیت بلکہ طبی بنیادوں پر بھی سزا معطلی کا انتہائی مضبوط کیس موجود ہے۔
عدالت نے اب تک دونوں درخواستوں پر کوئی فوری فیصلہ نہیں سنایا ہے اور معاملے کی سماعت جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواستیں عام طور پر عدالتوں میں زیادہ وزن رکھتی ہیں، خاص طور پر جب مریض کی عمر اور صحت کے مسائل ثابت ہوں۔

