لاہور: پاکستان کے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اپنے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ بیک چینل مذاکرات کی ہدایت کی ہے۔
غیر جانبدار شخصیت کو ذمہ داری
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سنگاپور کرکٹ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرنے والے اور آئی سی سی میں غیر جانبدار شخصیت سمجھے جانے والے عمران خواجہ کو یہ کام سونپا گیا ہے کہ وہ پاکستان کو 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے گروپ میچ کے لیے راضی کریں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستانی حکومت نے باضابطہ طور پر بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بنگلہ دیش سے یکجہتی کی وجہ
ذرائع کے مطابق پاکستان کا یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے، جسے آئی سی سی نے ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے میچوں کو بھارت سے باہر کسی مقام پر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ٹیم کو میدان میں نہ اترنے کی ہدایت احتجاج کی ایک شکل ہے۔
آئی سی سی کا ردعمل اور مالی نقصانات
آئی سی سی نے اپنے بیان میں پی سی بی سے باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کھیل اور عالمی پرستاروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تجارتی حلقوں میں اس فیصلے کو اربوں روپے کے نقصان سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
- بھارت-پاکستان میچ ٹورنامنٹ کی سب سے منافع بخش میچ سمجھا جاتا ہے۔
- ایک ٹی20 میچ کی مجموعی مالیت تقریباً 500 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
- بی سی سی آئی کو فوری طور پر 200 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ٹورنامنٹ شیڈول اور پاکستان کے میچز
پاکستان گروپ اے میں بھارت، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ کے ساتھ ہے۔ گرین شرٹس کے میچز کا شیڈول درج ذیل ہے:
- 7 فروری: نیدرلینڈز کے خلاف (افتتاحی میچ)
- 10 فروری: امریکہ کے خلاف
- 18 فروری: نمیبیا کے خلاف
تمام گروپ میچز سری لنکا میں کھیلے جائیں گے جو بھارت کے ساتھ مل کر ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبان ہے۔ عمران خواجہ کی کوششیں اور دونوں اطراف کا ردعمل آنے والے دنوں میں بین الاقوامی کرکٹ کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔
