فرانس کے علاقے وار میں واقع ساناری-سور-مر کے ایک اسکول میں اپنے ہی طالب علم کے خنجر کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی 60 سالہ استانی ہوش میں آگئی ہیں۔ تاہم، قانونی حکام کے مطابق ان کی حالت اب بھی نازک اور تشویشناک ہے۔
طبی حالت میں مثبت تبدیلی
ٹولن کے پراسیکیوٹر رافیل بیلانڈ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، آرٹس کی یہ استانی ہوش میں آچکی ہیں اور انہیں انٹینسو کیئر یونٹ سے نکال کر سینٹ این ہسپتال کے ایک عام وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "وہ اب بھی بہت تھکی ہوئی ہیں اور زیر نگرانی ہیں۔ ان کی حالت میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے لیکن اب بھی ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔”
واقعے کی تفصیلات
یہ المناک واقعہ گزشتہ ماہ 3 فروری کو پیش آیا تھا جب 14 سالہ طالب علم نے کلاس کے دوران اپنی استانی پر 12 سینٹی میٹر لمبی بلیڈ والے چاقو سے حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں استانی کو پیٹ کے حصے میں تین اور بائیں بازو پر ایک زخم آئے تھے۔
ملزم طالب علم کا اعتراف
ملزم طالب علم، جو تیسری جماعت کا طالب علم ہے، کو مقدمے کے لیے پیش کیا جا چکا ہے اور اسے عارضی حراست میں رکھا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران اس نے واقعے کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے استانی سے "انتقام” لینے کے لیے یہ حملہ کیا تھا۔
پراسیکیوٹر کے مطابق، "ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ استانی کے ساتھ کشیدگی تھی اور طالب علم ان سے اس بات پر ناراض تھا کہ انہوں نے اس کے خلاف اسکول کے سافٹ ویئر پر رپورٹس درج کی تھیں۔”
تعلیمی حلقوں میں صدمہ اور ردعمل
اسکول میں ہونے والا یہ خنجر کا حملہ پورے فرانس کی تعلیمی برادری کے لیے ایک گہرے صدمے کا باعث بنا ہے۔ اس واقعے کے بعد نہ صرف اسکولوں میں سیکیورٹی اقدامات پر بحث چھڑ گئی ہے بلکہ طلبہ کی نفسیاتی صحت اور تنازعات کے حل کے لیے جامع پالیسیوں کی فوری ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
قانونی صورت حال
فرانسیسی قانون کے مطابق، 16 سال سے کم عمر ہونے کی وجہ سے ملزم طالب علم کو زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ فرانس میں اسکولوں کے اندر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر ایک بار پھر تشویش پیدا کر گیا ہے اور حکام اس معاملے کی گہرائی میں جانچ کر رہے ہیں۔

