فرانس نے رافیل ایف 5 اور اسٹیلتھ ڈرون کی تیاری میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا
پیرس — فرانس نے اپنے رافیل ایف 5 لڑاکا جہاز کے پروگرام اور ایک نئے اسٹیلتھ لڑاکا ڈرون کی تیاری میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ قدم صنعتی خودمختاری کو برقرار رکھنے، جوہری صلاحیت کو بڑھانے اور یورپی دفاعی تعاون میں پیش آنے والی رکاوٹوں کے تناظر میں ایک اہم اسٹریٹجک موڑ ہے۔
نئی جنگی نظریے کی جانب پیش قدمی
رافیل ایف 5 کا نیا معیار، جس کے 2030 تک متعارف ہونے کی توقع ہے، محض ایک اپ گریڈ شدہ جہاز نہیں ہوگا۔ یہ ایک جامع جنگی نظام کا حصہ ہوگا جس میں ایک پائلٹڈ لڑاکا جہاز اور ایک اسٹیلتھ لڑاکا ڈرون شامل ہوگا۔ یہ ڈرون nEUROn ڈیمانسٹریٹر پروگرام کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا۔
اس نظام کا مقصد "کولیبریٹو کمبیٹ” یا باہمی تعاون پر مبنی جنگ کی نئی نظریے کو متعارف کرانا ہے، جہاں پائلٹڈ جہاز ایک خودکار ڈرون کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ یہ ڈرون زیادہ خطرناک علاقوں میں داخل ہو سکے گا، جس سے انسانی جانوں کا خطرہ کم ہو گا اور جنگی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔
یورپی تعاون میں رکاوٹوں کے درمیان اسٹریٹجک انشورنس
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب فرانس، جرمنی اور اسپین کا مشترکہ فیوچر کمبیٹ ایئر سسٹم (ایف سی اے ایس) پروگرام سیاسی اور صنعتی اختلافات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ رافیل ایف 5 اور اس کا ڈرون امریکی ایف-35 جہاز کے مقابلے کے ساتھ ساتھ ایک "اسٹریٹجک انشورنس پالیسی” کا کردار ادا کریں گے۔
اگر ایف سی اے ایس پروگرام مزید تاخیر کا شکار ہوا یا ناکام ہوا، تو فرانس کے پاس اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کا ایک متبادل راستہ موجود ہوگا۔
ڈرون کی اہم خصوصیات
نئے لڑاکا ڈرون کو nEUROn کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیار کیا جائے گا، لیکن یہ اس سے کہیں بڑا اور زیادہ صلاحیت والا ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق اس کا سائز تقریباً ایک میرج 2000 جہاز جتنا ہو سکتا ہے۔ اس کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں:
- اندرونی ہتھیاروں کے بیسن سے لیس ہونا۔
- اعلیٰ سطح کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی۔
- رافیل جہاز کے ساتھ مل کر خودکار طریقے سے آپریشن کرنے کی صلاحیت، جس میں فیصلہ سازی کا کچھ اختیار بھی شامل ہوگا۔
تولیدی چیلنجز اور جوہری صلاحیت
اس پروگرام کی کامیابی کا انحصار نہ صرف ٹیکنالوجی پر بلکہ صنعتی صلاحیت پر بھی ہے۔ ڈاسالٹ ایوی ایشن فی الحال رافیل جہازوں کی پیداوار میں اضافے کی کوشش کر رہی ہے۔ نئے ڈرون کی تیاری، جو ایک پیچیدہ اسٹیلتھ پلیٹ فارم ہے، اس پیداواری دباؤ میں ایک نئی چیلنج کا اضافہ کرے گی۔
رافیل ایف 5 فرانس کی جوہری روئے کی اہمیت کا بھی حامل ہوگا، کیونکہ یہ اے ایس این 4 جی نامی نئے ایئر لانچڈ جوہری میزائل کو لے جانے کے قابل ہوگا۔ صدر ایمانوئل میکخوں نے اس سلسلے میں لکسیوئیل ایئر بیس کی اپ گریڈ کے لیے 1.5 ارب یورو کے منصوبے کا اعلان بھی کیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ فرانس کا یہ اقدام ایک واضح اسٹریٹجک پیغام دیتا ہے کہ یورپی دفاعی تعاون میں رکاوٹوں کے باوجود، وہ اپنی فضائی جنگی صلاحیت کو جدید بنانے اور اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
