فرانس کے قومی بینک اکاؤنٹس ڈیٹا بیس پر بڑا سائبر حملہ، 12 لاکھ سے زائد افراد کا ذاتی ڈیٹا چوری
پیرس: فرانس کی وزارت خزانہ نے ایک بڑے سائبر سیکیورٹی واقعے کی تصدیق کی ہے جس میں ملک کے قومی بینک اکاؤنٹس کے ڈیٹا بیس (Ficoba) تک غیر قانونی رسائی حاصل کی گئی۔ وزارت کے مطابق اس حملے میں 12 لاکھ سے زائد افراد کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق ذاتی معلومات متاثر ہوئی ہیں۔
حملے کی تفصیلات اور طریقہ کار
وزارت خزانہ کے مطابق یہ حملہ گزشتہ ہفتوں میں اس وقت ہوا جب ایک ہیکر نے ایک سرکاری ملازم کے لاگ ان کریڈنشلز چرا کر ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کی۔ حملے کا پتہ چلنے کے بعد فوری طور پر ڈیٹا بیس تک رسائی کو محدود کر دیا گیا تاکہ مزید ڈیٹا کی چوری روکی جا سکے۔
چوری ہونے والی معلومات کی نوعیت
سرکاری بیان کے مطابق، سائبر حملے میں چوری ہونے والے ڈیٹا میں درج ذیل اہم معلومات شامل ہیں:
- بینک اکاؤنٹ نمبرز (آئی بی اے این/آر آئی بی)
- اکاؤنٹ ہولڈرز کے مکمل نام اور پتے
- تاریخ اور مقام پیدائش
- بعض صورتوں میں ٹیکس شناختی نمبرز بھی
متاثرہ افراد کو انتباہ اور اقدامات
خزانہ وزارت نے بتایا کہ متاثرہ صارفین کو آنے والے دنوں میں انفرادی طور پر یہ اطلاع دی جائے گی کہ ان کے ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی ہوئی ہے۔ فرانسیسی بینکنگ فیڈریشن (ایف بی ایف) نے بھی تصدیق کی ہے کہ تمام بینک متاثرہ صارفین کو اس واقعے سے آگاہ کریں گے۔
بینکنگ فیڈریشن نے واضح کیا کہ چوری ہونے والی معلومات سے براہ راست بینک اکاؤنٹ سے رقم نکلوانا یا کارڈ سے ادائیگی کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے صارفین سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
ممکنہ دھوکہ دہی کے خطرات
ایف بی ایف نے خبردار کیا ہے کہ چوری شدہ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل قسم کی دھوکہ دہی کی جا سکتی ہے:
- جعلسازی کے ذریعے چوری شدہ آئی بی اے این نمبرز پر خودکار ادائیگیاں (پرلیویمنٹ) قائم کرنا۔
- چوری شدہ آئی بی اے این نمبرز استعمال کر کے مختلف خدمات کی سبسکرپشن حاصل کرنا۔
- جھوٹے قرض دہندگان کے روپ میں غیر قانونی ادائیگیوں کا مطالبہ کرنا۔
حفاظتی ہدایات
ادائیگی کے ذرائع کی سیکیورٹی کے قومی مرکز نے صارفین کو درج ذیل حفاظتی اقدامات اپنانے کی ہدایت جاری کی ہے:
- اپنے آن لائن بینک اکاؤنٹ میں "وائٹ لسٹ” (اجازت یافتہ ادائیگی کنندگان) اور "بلیک لسٹ” (ممنوعہ ادائیگی کنندگان) کی فہرستوں کا باقاعدہ جائزہ لیں۔
- اپنے اکاؤنٹ سے ہونے والی تمام خودکار ادائیگیوں (اسٹینڈنگ آرڈرز) پر مسلسل نظر رکھیں۔
- کسی بھی غیر معمولی یا مشکوک ٹرانزیکشن کی صورت میں فوری طور پر اپنے بینک سے رابطہ کریں۔
- کبھی بھی اپنے بینک کو یا بینک ہونے کے دعویدار کسی فون کال یا ای میل کے ذریعے اپنے پاس ورڈز یا سیکیورٹی کوڈز نہ دیں۔
یہ واقعہ فرانس میں سرکاری ڈیٹا بیسز کی سیکیورٹی کے موجودہ نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے اور ڈیٹا تحفظ کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

