# فچ ریٹنگز نے پاکستان کا ‘بی-‘ درجہ برقرار رکھتے ہوئے ‘مستحکم’ آؤٹ لک جاری کیا
بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے پاکستان کی طویل مدتی غیر ملکی کرنسی جاری کنندہ کی ڈیفالٹ ریٹنگ ‘بی-‘ برقرار رکھتے ہوئے اس کا آؤٹ لک ‘مستحکم’ قرار دے دیا ہے۔
ایجنسی نے جمعرات کو جاری اپنے تازہ ترین بیان میں کہا کہ یہ ریٹنگ مالیاتی یکجہتی اور میکرو اکنامک استحکام کے اقدامات پر پیشرفت کی عکاس ہے۔
## آئی ایم ایف پروگرام اور مالیاتی استحکام
فچ کے مطابق، یہ پیشرفت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور ملک کی فنڈنگ کی صلاحیت کو سہارا دیتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ برس کے دوران غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات کے خلاف ایک بفر کا کام کیا ہے۔
ایجنسی نے بتایا کہ حکام نے مارچ میں آئی ایم ایف کے ساتھ اس کے قرض کے پروگراموں پر اسٹاف لیول معاہدہ کر لیا تھا، جس سے مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری ہوئی۔ فچ کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام مالیاتی فریم ورک کے لیے ایک اہم پالیسی لنگر کا کام جاری رکھے گا۔
## توانائی کے جھٹکے کا خطرہ
ایجنسی نے نشاندہی کی کہ عالمی توانائی کی قیمتوں کے جھٹکے کے سامنے ملکی نمائش ایک اہم خطرہ برقرار ہے، خاص طور پر اگر اس سے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو۔
بیان کے مطابق پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا 90 فیصد تک خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے اور اس کی اسٹوریج کی صلاحیت محدود ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے تنازعے اور ہرمز کے آبنائے کے ذریعے توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
## معاشی اشارے اور پیشین گوئیاں
فچ ریٹنگز کی جانب سے جاری بیان میں درج ذیل اہم معاشی اشارے اور پیشین گوئیاں شامل ہیں:
* مالیاتی سال 2026 کے لیے افراط زر کی اوسط شرح 7.9 فیصد رہنے کا تخمینہ، جو مالیاتی سال 2024 کی 23.4 فیصد شرح سے کم ہے۔
* فیصد جی ڈی پی نمو مالیاتی سال 2026 میں 3.1 فیصد رہنے کی توقع، جو پچھلے سال کے 3.0 فیصد سے معمولی بہتری ہے۔
* بیرونی قرض کی ادائیگیاں مالیاتی سال 2026 میں 12.8 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 2.9 فیصد) تک بڑھنے کا امکان۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی ریٹ میں کمی کے بعد مارکیٹ کی سود کی شرحیں بھی کم ہوئی ہیں۔
## قرض کی ادائیگی اور پانڈا بانڈ
فچ ریٹنگز نے کہا کہ توقع ہے کہ قرض کی ادائیگیاں بنیادی طور پر آئی ایم ایف اور دیگر کثیر جہتی و دو طرفہ رقوم، اس کے بعد تجارتی فنانسنگ سے کی جائیں گی۔ ایجنسی کے مطابق پاکستان اس مالیاتی سال میں ایک پانڈا بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

