یورپی یونین نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی روکنے کا نیا ایپ تیار کر لیا
برسلز: یورپی یونین نے پندرہ سال سے کم عمر افراد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی روکنے کے لیے ایک عمر کی تصدیق کرنے والا نیا ایپ تیار کر لیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ یہ ایپ "تکنیکی طور پر تیار” ہے اور "جلد استعمال کے لیے دستیاب ہو جائے گا”۔
ذاتی ڈیٹا کے تحفظ پر مبنی نظام
کمیشن کے مطابق، یہ ایپ شہریوں کی رازداری کو تحفظ دینے کے لیے "دنیا کی سخت ترین رازداری کے معیارات” پر پورا اترتا ہے۔ صدر وان ڈیر لیین نے اسے "دوستانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ استعمال میں آسان اور ذاتی ڈیٹا کا احترام کرنے والا نظام ہے۔
ایپ کا طریقہ کار
رپورٹس کے مطابق، جب کوئی صارف کسی پورنوگرافک ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، تو ایک صفحہ کھل جائے گا جہاں عمر کی تصدیق کی ضرورت ہوگی۔ صارف کو یورپی یونین کی مفت ایپ پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا پاسپورٹ یا قومی شناختی کارڈ کی تصویر اپ لوڈ کر کے اپنی عمر ثابت کر سکے گا۔ تصدیق ہونے پر، ایپ ویب سائٹ کو تصدیقی پیغام بھیج دے گی اور صارف کو آزادانہ طور پر براؤز کرنے دے گی۔
گمنامی اور اوپن سورس کوڈ کی ضمانت
یورپی کمیشن کا دعویٰ ہے کہ صارفین اپنی عمر "مکمل طور پر گمنام طریقے سے ثابت کر سکیں گے اور ان کا سراغ نہیں لگایا جا سکے گا”۔ یہ ایپ ایک ثالث کے طور پر کام کرے گی تاکہ پلیٹ فارمز کو صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی نہ مل سکے۔ مزید برآں، ایپ کا کوڈ اوپن سورس ہوگا، یعنی یہ سب کے لیے قابل رسائی اور جانچ پڑتال کے لیے کھلا ہوگا۔
پلیٹ فارمز کی ذمہ داری واضح
صدر وان ڈیر لیین کے مطابق، اس ایپ کی دستیابی کے بعد پلیٹ فارمز کے پاس نابالغوں کو روکنے کی ذمہ داری سے بچنے کی "کوئی عذر” باقی نہیں رہے گا۔ یہ نظام یورپی یونین کے رکن ممالک کو ایک "ہم آہنگ یورپی نقطہ نظر” اپنانے میں مدد دے گا۔
اس اقدام کا مقصد آسٹریلیا جیسے ممالک میں چہرے کی پہچان پر مبنی ناقابل اعتماد نظاموں کے متبادل کے طور پر ایک محفوظ اور قابل اعتماد تکنیکی حل فراہم کرنا ہے۔
فرانس میں آزمائشی دور
رپورٹس کے مطابق، یہ ایپ فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں بیٹا ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزر چکی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں نابالغوں پر سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات اور ان کی ذہنی صحت کے تحفظ پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔

