دبئی میں تاریخی بارش، شہر کی زندگی مفلوج
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی اور دیگر امارات میں ہفتے کے روز ریکارڈ توڑ بارش اور سیلاب نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ موسمی واقعہ گزشتہ 75 سالوں میں سب سے زیادہ بارش کا باعث بنا۔
شہری نقل و حمل کا نظام تہس نہس
شدید بارش اور سیلابی پانی نے دبئی کی سڑکوں کو ناقابل استعمال بنا دیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنس گئیں۔ دبئی میٹرو کی خدمات بھی جزوی طور پر معطل کر دی گئیں۔ شہر کے متعدد زیریں علاقے مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے، جس سے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہوائی اڈوں پر بڑے پیمانے پر منسوخیاں
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) پر صورتحال انتہائی خراب رہی۔ بارش کے باعث متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ایئرپورٹ اتھارٹی نے مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ ضروری ہونے تک ہوائی اڈے نہ پہنچیں، کیونکہ رسد کے راستے بھی متاثر ہوئے تھے۔ فلائی دبئی سمیت کئی ایئر لائنز نے اپنی تمام پروازیں معطل کر دیں۔
حکام کی ہدایات اور احتیاطی تدابیر
متحدہ عرب امارات کے حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ گھروں سے نکلنے سے گریز کریں اور ضروری ہو تو انتہائی احتیاط برتیں۔ ملک بھر کے اسکول دورانیے کے لیے بند کر دیے گئے ہیں اور سرکاری ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کا نظام نافذ ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں
ماہرین موسمیات اس غیر معمولی موسمی واقعے کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں کلاؤڈ سیڈنگ کے پروگرام بھی جاری ہیں، تاہم اس مخصوص واقعے میں اس کی ممکنہ تاثیر پر ماہرین کا موقف واضح نہیں ہے۔ حکومتی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضروری مدد فراہم کر رہے ہیں۔
