ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین کا استعفیٰ، جیفری ایپسٹین کے ساتھ ای میلز کے تبادلے کے انکشافات کے بعد
دنیا بھر میں بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے شعبے پر حکمرانی کرنے والی عالمی کمپنی ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین سلطان احمد بن سلیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب عدالتی دستاویزات میں ان کے اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے درمیان سینکڑوں نجی ای میلز کے تبادلے کا انکشاف ہوا۔
عدالتی دستاویزات نے رابطے کی تصدیق کی
نئی جاری ہونے والی عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوا کہ سلطان احمد بن سلیم نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک ایپسٹین کے ساتھ مسلسل اور گہرا رابطہ برقرار رکھا۔ ان انکشافات کے فوری بعد، ڈی پی ورلڈ نے ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے بن سلیم کے استعفیٰ کی تصدیق کی۔ کمپنی کی سرکاری ویب سائٹ سے ان کی تصویر اور تفصیلات بھی ہٹا دی گئی ہیں۔
ای میلز میں ذاتی قربت کے ثبوت
جاری ہونے والی ای میلز سے دونوں شخصیات کے درمیان ایک قریبی ذاتی تعلق کا پتہ چلتا ہے۔ ای میلز میں ان کے ذاتی سفری پروگرام، خاندانی معاملات، صحت کے مسائل اور نجی لطیفے شامل تھے۔ جون 2013 میں ایپسٹین نے بن سلیم کو "اپنے سب سے قابل اعتماد دوستوں میں سے ایک” قرار دیا تھا۔ یہ تعلق اس وقت بھی جاری رہا جب ایپسٹین نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں سزا یافتہ ہو چکا تھا۔
خواتین کے حوالے سے مبہم تبصرے
ای میلز کے ایک حصے میں خاصے تشویشناک حوالے بھی ملے ہیں۔ 2017 کی ایک ای میل میں سلطان احمد بن سلیم نے ایپسٹین کے لیے ترکی کے ایک ہوٹل میں ایک خاتون کے "پرائیویٹ مساج” کے "مکمل ٹریٹمنٹ” کی تربیت کا بندوبست کرنے کا ذکر کیا۔ ہوٹل کے نمائندے نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ دیگر ای میلز میں روسی، آئرش اور ازبک نسل کی خواتین کے بارے میں ذاتی نوعیت کے مبہم تبصرے بھی شامل تھے۔
طاقتور حلقوں میں رسائی کا ذریعہ
دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین بن سلیم کے لیے عالمی طاقت کے دالانوں میں رسائی کا ایک ذریعہ تھا۔ ایپسٹین نے بن سلیم کو برطانیہ کے سینئر سیاست دان لارڈ پیٹر مینڈیلسن سے متعارف کرایا، جس کا مقصد لندن کی ایک بڑی بندرگاہ کا کنٹریکٹ حاصل کرنے میں مدد لینا تھا۔ ایپسٹین نے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود بارک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن جیسی شخصیات سے بھی تعارف کرانے کی پیشکش کی تھی۔
استعفیٰ کے بعد کے اثرات
سلطان احمد بن سلیم کے استعفیٰ کے بعد سے، ڈی پی ورلڈ کے حلقوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ تاہم، اس واقعے کے عملی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ برطانیہ کی ترقیاتی فنانس ایجنسی اور کینیڈا کے بڑے پینشن فنڈز نے کمپنی میں نئی سرمایہ کاری پر عارضی طور پر پابندی لگا دی ہے۔ پرنس آف ویلز کے ماحولیاتی پراجیکٹ ‘ارتھ شاٹ’ نے، جسے ڈی پی ورلڈ کی مالی معاونت حاصل تھی، اس معاملے کی برطانیہ کے چیریٹی کمیشن کو رپورٹ کر دی ہے۔

