بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: 12 دہشت گرد ہلاک، ایک پولیس اہلکار شہید
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک بڑے آپریشن کے دوران 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سنٹرل پولیس آفس کے مطابق، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی مشترکہ کارروائی میں متعدد عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے، تاہم اس دوران ڈیوٹی کے فرائض انجام دیتے ہوئے ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔
آپریشن کی تفصیلات
یہ آپریشن تھانہ میریان کی حدود میں علی الصبح شروع کیا گیا، جس میں جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی اور نگرانی کے آلات کا استعمال کیا گیا تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ حکام کے مطابق، اس کارروائی میں 10 کلو گرام وزنی امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) برآمد کر کے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔ اگر یہ بارودی مواد دھماکے کے لیے استعمال ہوتا تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
زخمی اہلکار اور جاری کارروائیاں
آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا، جسے فوری طور پر علاج کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید نے واضح کیا ہے کہ فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلاتعطل جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑی ہے اور دشمنوں کے ہر وار کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
صوبے بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں
بنوں میں یہ کامیاب آپریشن اس سے چند روز قبل خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کیے گئے آپریشنز کے تسلسل میں ہے، جن میں 23 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دتہ خیل، اسپن وام اور بنوں میں کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں فتنہ الخوارج کے 23 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جن میں ایک بڑا سرغنہ جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل تھا۔
سرحد پار سے دہشت گردی میں اضافہ
سن 2021 میں افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے پاکستان، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی صوبوں میں، سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت پاکستان بارہا افغان حکومت سے مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
تاہم، افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے مسلسل انکار کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ پاکستان نے رواں سال فروری میں آپریشن غضب الحق کا آغاز کیا، جو اکتوبر 2025 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سرحدی جھڑپوں کے تناظر میں شروع کیا گیا۔ متعدد مذاکرات کے باوجود، افغان طالبان کی اپنی سرزمین سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے کوئی ٹھوس معاہدہ طے نہیں ہو سکا ہے۔

