بحیرہ عرب میں تنازعہ: ایل این جی کی ‘محفوظ’ ساکھ خطرے میں
پندرہ سال سے زیادہ عرصے تک، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کو عالمی توانائی کے نظام میں ایک لچکدار اور قابل اعتماد ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے اس کی سپلائی چین کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے اس کے مستقبل کے کردار پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
خطرناک ہوتے سمندری راستے
خلیج فارس کا آبنائے ہرمز، جو دنیا کی تقریباً پانچویں حصہ ایل این جی کی نقل و حمل کا اہم راستہ ہے، اب ایک جنگی علاقہ بن چکا ہے۔ 28 فروری کے بعد سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد، کوئی بھی میتھین ٹینکر اس خطرناک راستے سے گزرنے کی ہمت نہیں کر رہا۔
قطر کے لیے پیدا ہونے والا بحران
اس صورتحال نے دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی برآمد کنندہ ممالک میں سے ایک، قطر کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ جہاں تیل کو متبادل زمینی پائپ لائنوں کے ذریعے بھیجا جا سکتا ہے، وہیں قطر کے پاس ایل این جی کی ترسیل کے لیے کوئی زمینی متبادل راستہ موجود نہیں ہے۔
صنعت میں پھیلی تشویش
انٹرنیشنل گیس یونین کے سیکرٹری جنرل نے تسلیم کیا ہے کہ جب جغرافیائی سیاسی واقعات رونما ہوتے ہیں تو سپلائی کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔ اگرچہ ایل این جی پائپ لائن گیس کے مقابلے میں زیادہ متحرک ہے، لیکن یہ خصوصی انفراسٹرکچر، مہنگے جہازوں اور مخصوص سمندری راستوں پر انحصار کرتی ہے — اور موجودہ تنازعے نے ان تمام شرائط کو درہم برہم کر دیا ہے۔
ایشیائی خریداروں پر اثرات
ماہرین کے مطابق، اس بحران کے نتیجے میں ایشیائی ممالک، جو ایل این جی کے بڑے خریدار ہیں، مستقبل میں اس توانائی ذریعے سے رجوع کرنے پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ ایک بار جب قابل بھروسہ سمجھا جانے والا یہ ایندھن غیر مستحکم ثابت ہو گا، تو صارفین متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ: ایک بدلتی ہوئی توانائی کی تصویر
یہ بحران ایل این جی کی "لچکدار اور قابل بھروسہ” ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا سکتا ہے۔ نتیجتاً، عالمی توانائی کی منڈیوں میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جو طویل مدتی توانائی کی حکمت عملیوں پر اثر انداز ہوں گی۔
