وسطی مشرقی جنگ کے چھٹے دن فرانس نے لبنانی فوج کو بکتر بند گاڑیاں فراہم کرنے کا اعلان کر دیا
وسطی مشرقی جنگ کے چھٹے دن علاقائی کشیدگی میں اضافے کے درمیان فرانس نے لبنانی مسلح افواج کے ساتھ تعاون بڑھانے اور انہیں بکتر بند ٹرانسپورٹ گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فرانسیسی صدر کا اعلان اور اپیل
صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کی شام ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس اقدام کی تصدیق کی۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے لبنان میں جنگ نہ پھیلانے کی اپیل بھی کی۔
لبنان میں صورت حال کشیدہ
اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے، جس کے بعد ہزاروں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی۔ لبنانی صدر جوزف آؤن نے فرانسیسی صدر سے فوری طور پر جنگ بندی کے حصول میں مدد کی درخواست کی ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے اب تک 102 افراد ہلاک اور 638 زخمی ہو چکے ہیں۔
ہلاکتوں کا نیا تخمینہ
تنازعے کے چھٹے دن تک ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایران میں 1,045، لبنان میں 102، اسرائیل میں 10 شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ خلیجی ممالک میں بھی متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ایران کا سخت موقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نہ تو جنگ بندی چاہتا ہے اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات۔ انہوں نے کہا، "ہم پہلے دو بار ان کے ساتھ مذاکرات کر چکے ہیں، اور ہر بار انہوں نے مذاکرات کے دوران ہی ہم پر حملہ کیا۔”
ایران نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ اس کا مقبوضہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، تاہم فی الحال اسے بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
یورپی ممالک کے دفاعی اقدامات
متعدد یورپی ممالک نے دفاعی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ برطانیہ نے قطر میں چار اضافی ٹائیفون جنگی جہاز تعینات کیے ہیں۔ اٹلی نے خلیجی ممالک کو میزائل شکن نظام فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اڈوں پر امریکی فضائیہ کے عارضی استعمال کی اجازت دی ہے۔
انسانی بحران
بین الاقوامی بحری تنظیم کے مطابق خلیج فارس میں تقریباً 20,000 بحری عملہ اور 15,000 مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ فرانس نے اب تک چار ہوائی جہازوں کے ذریعے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے، جبکہ 36,000 فرانسیسی شہریوں نے خطے میں ہنگامی رابطے کے نظام میں رجسٹریشن کروائی ہے۔
بین الاقوامی کوششیں
یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ فرانس کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل فیبین منڈون بیروت پہنچ چکے ہیں جہاں انہوں نے لبنانی قیادت سے ملاقات کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
عالمی رہنماؤں کی توجہ اس بحران کے خاتمے اور علاقائی استحکام کی بحالی پر مرکوز ہے، جبکہ جنگ کے اقتصادی اثرات بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

