سیون، سوئٹزرلینڈ — نئے سال کی رات کونسٹیلیشن بار میں لگنے والی مہلک آگ میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں اور ملزمان کے درمیان جمعرات کو عدالت کے باہر انتہائی جذباتی ٹکراؤ دیکھنے میں آیا۔ اس آگ میں 41 نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔
سوگوار خاندانوں کا غم و غصہ
ملزمان جیکس اور جیسیکا موریتی کو جیسے ہی سیون کی عدالت پہنچایا گیا، سوگوار خاندانوں نے انہیں گھیر لیا۔ ایک چھوٹے لڑکے نے بار بار ملزمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "میرے بھائی کو تم نے مارا ہے!”۔ ایم6 اور اے ایف پی کی حاصل کردہ ویڈیو فوٹیج میں یہ منظر واضح دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ جیسیکا موریتی اس سامنے رونے لگیں اور پیچھے مڑنے کی کوشش کرنے لگیں۔ پس منظر میں ایک مرد کی آواز سنائی دی، "میرا بیٹا مر گیا، وہ جل گیا”، جبکہ ایک عورت درد ناک چیخیں مارتی ہوئی پوچھ رہی تھی، "میرا بیٹا کہاں ہے؟”۔
ملزمان کا وعدہ اور خاندانوں کے نعرے
خاندانوں کے غم و غصے کا سامنا کرتے ہوئے جیکس موریتی نے کہا، "ہم آپ کے ساتھ ہیں! ہم ذمہ داری قبول کریں گے، ہم عدالت کے لیے حاضر ہیں!”۔ اس دوران سوگوار خاندانوں کی طرف سے تیز نعرے لگائے گئے:
- "تم نے ہمارے بچوں کو جلا دیا”
- "41 بچے، تم نے قتل کیے”
- "150 متاثرین، تم نے ان کے بارے میں سوچا؟”
عدالتی کارروائی اور الزامات
جیکس اور جیسیکا موریتی پر "لاپروائی سے قتل، لاپروائی سے جسمانی چوٹ اور لاپروائی سے آگ لگانے” کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ بدھ سے سیون کی عدالت میں ان کی پیشی جاری ہے۔
پہلے روز ہی عدالت میں ایک ایسی ماں سے سامنا ہوا جس کی دو بیٹیاں اس آگ میں زخمی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اس ملاقات کو "انتہائی شدید اور انسانی طور پر نایاب لمحہ” قرار دیا۔
وکیل کا بیان اور ملاقات کی پیشکش
ملزمان کے وکیل می نکولہ میئر نے اس جذباتی تبادلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "اس تبادلے کی خاص بات باہمی بات چیت کی خواہش تھی۔ اگر دیگر متاثرین بھی ایسی ہی خواہش رکھتے ہیں تو موریتی جوڑا ان سے بھی ملنے کے لیے تیار ہے۔”
ملک کی تاریخ کی بدترین بار آگ
یہ واقعہ 31 دسمبر کی رات کرانز-مونٹانا میں کونسٹیلیشن بار میں پیش آیا تھا۔ آگ میں 41 نوجوان ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات میں حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کو اس سانحے کی ممکنہ وجہ بتایا گیا ہے۔
یہ سوئٹزرلینڈ کی تاریخ کی بدترین بار آگ ہے جس نے پورے ملک کو گہرے سوگ میں ڈال دیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان اور متاثرین خاندانوں کے درمیان اس قسم کے جذباتی مناظر کے دوبارہ دیکھے جانے کا امکان ہے۔
