فرانس نے جوہری ذخیرہ بڑھانے اور یورپی اتحادیوں کو مشقوں میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا
پیرس: فرانس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں توسیع اور یورپی شراکت دار ممالک کو اپنی جوہری روک تھام کی مشقوں میں شامل کرنے کا ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے برٹنی میں واقع ایک آبدوز اڈے سے خطاب کرتے ہوئے اس نئی دفاعی پالیسی کا اعلان کیا۔
جیو سیاسی چیلنجز اور نئی حکمت عملی
صدر میکرون نے کہا، "ہم اس وقت خطرات سے بھرپور جیو سیاسی ہلچل کے دور سے گزر رہے ہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں فرانس کے جوہری روک تھام کے ماڈل کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس سے قربت اور یورپی اتحاد کے حوالے سے بیانات نے یورپ میں سلامتی کے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
کون سے یورپی ممالک شامل ہوں گے؟
نئی جوہری نظریے کے تحت، جرمنی، یونان، پولینڈ، نیدرلینڈز، بیلجیم، ڈنمارک اور سویڈن جیسے ممالک فرانسیسی جوہری جنگی مشقوں میں حصہ لے سکیں گے۔ میکرون نے کہا، "میرا خیال ہے کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے شراکت دار تیار ہیں۔”
فرانس۔جرمنی جوہری اسٹیئرنگ گروپ
جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے روک تھام کے معاملات پر بات چیت کے لیے ایک جوہری اسٹیئرنگ گروپ قائم کیا ہے۔ اس سال سے عملی تعاون کا آغاز ہوگا، جس میں جرمنی کی روایتی فوجی قوتوں کی فرانسیسی جوہری مشقوں میں شرکت اور اسٹریٹجک مقامات کے مشترکہ دورے شامل ہوں گے۔
فرانس کے جوہری ہتھیار: اہم اعداد و شمار
فرانس کے پاس فی الحال 290 جوہری ہتھیار ہیں، جو اسے دنیا کا چوتھا سب سے بڑا جوہری ذخیرہ رکھنے والا ملک بناتا ہے۔ اس پروگرام پر سالانہ 5.6 ارب یورو (6.04 ارب ڈالر) خرچ ہوتے ہیں۔ موازنہ کے لیے، برطانیہ کے پاس 225 جبکہ روس اور امریکہ کے پاس 5,000 سے زائد جوہری ہتھیار ہیں۔
‘فارورڈ ڈیٹرنس’ کا نیا تصور
صدر میکرون نے بتایا کہ غیر متعین حالات میں دیگر یورپی ممالک میں اسٹریٹجک اثاثے قائم کرنا ممکن ہوگا، جو ‘فارورڈ ڈیٹرنس’ (آگے بڑھی ہوئی روک تھام) کے نئے نظریے کا حصہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا، "ہماری اسٹریٹجک فضائیہ یورپی براعظم میں دور تک پھیل سکتی ہے۔”
حتمی فیصلہ سازی کا اختیار
اگرچہ فرانس یورپی شراکت داری کو بڑھا رہا ہے، لیکن میکرون نے واضح کیا کہ جوہری حملے کے حوالے سے حتمی فیصلہ سازی کا اختیار صرف فرانسیسی صدر کے پاس رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانیہ کے ساتھ جوہری روک تھام پر قریبی تعلقات جاری رہیں گے اور امریکہ کے ساتھ مکمل شفافیت برتی جائے گی۔
پولش وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا، "ہم اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ہتھیار بڑھا رہے ہیں تاکہ ہمارے دشمن ہم پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کریں۔” تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یورپی سلامتی کے حوالے سے ایک تاریخی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

