پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا آسمانی نظارہ
ایک مکمل چاند گرہن منگل کے روز پیش آیا، جس کے دوران چاند کا رنگ سرخی مائل نارنجی ہو گیا، جسے عام طور پر ‘خون کا چاند’ کہا جاتا ہے۔ یہ آسمانی مظہر اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب سورج اور چاند کے درمیان زمین براہ راست آ جاتی ہے۔
چاند گرہن اور سرخ رنگت کیسے بنتی ہے؟
ماہرین فلکیات کے مطابق، جب زمین کا سایہ چاند کی سطح پر پڑتا ہے تو سورج کی روشنی زمین کے ماحول سے گزرتی ہے۔ اس عمل میں نیلی روشنی منتشر ہو جاتی ہے جبکہ سرخ اور نارنجی رنگ کی شعاعیں آگے بڑھ کر چاند تک پہنچتی ہیں، جس کی وجہ سے مکمل گرہن کے دوران چاند گہرا سرخ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔
محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے جاری اوقات
محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے گرہن کے مراحل کے درج ذیل اوقات جاری کیے تھے:
- نیم سایہ گرہن کا آغاز: دوپہر 1:44 بجے (پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم)
- جزوی گرہن کا آغاز: 2:50 بجے شام
- مکمل گرہن کا آغاز: 4:05 بجے شام
- گرہن کا عروج: 4:34 بجے شام
- مکمل گرہن کا اختتام: 5:03 بجے شام
- گرہن کا مکمل اختتام: 7:23 بجے شام
پاکستان میں نظارے کی صورت حال
پی ایم ڈی کے مطابق، چونکہ گرہن کا زیادہ تر حصہ پاکستان میں دن کے اوقات میں پیش آیا، اس لیے ملک کے بیشتر حصوں میں یہ براہ راست نظر نہیں آیا۔ تاہم، مبصرین شام کے وقت بعد کے مراحل دیکھ سکے، جو مقامی چاند طلوع ہونے کے وقت اور موسمی حالات پر منحصر تھا۔ محکمے کے مطابق یہ گرہن مختلف شہروں سے جزوی طور پر نظر آیا۔
دنیا کے دیگر خطوں میں نظارہ
اس آسمانی واقعے کا نظارہ مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا میں شام کے وقت، بحرالکاہل میں رات کے وقت، جبکہ شمالی اور وسطی امریکہ کے کچھ حصوں اور جنوبی امریکہ کے انتہائی مغرب میں طلوع آفتاب سے قبل کیا جا سکا۔ وسطی ایشیا اور جنوبی امریکہ کے بڑے علاقوں میں صرف جزوی گرہن نظر آیا، جبکہ یہ افریقہ یا یورپ سے نظر نہیں آیا۔
چاند گرہن دیکھنے کا طریقہ
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند گرہن کو بغیر کسی خاص آلات کے محفوظ طریقے سے دیکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ چاند آسمان میں صاف نظر آ رہا ہو۔ تاہم، کم روشنی کی آلودگی والے علاقوں سے دیکھنا یا دوربین کا استعمال زیادہ تفصیلی نظارہ فراہم کر سکتا ہے۔

