حفاظتی خدشات کے پیش نظر امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں کی ویزا سروسز معطل
اسلام آباد: موجودہ حفاظتی صورت حال کے پیش نظر امریکہ نے پاکستان میں اپنے سفارت خانے اور قونصل خانوں کی معمول کی ویزا خدمات جمعہ 6 مارچ تک معطل کر دی ہیں۔ اس اقدام سے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ساتھ ساتھ لاہور اور کراچی میں قونصل خانے متاثر ہوئے ہیں۔
تقاریب منسوخ، درخواست دہندگان کو ہدایات
امریکی مشن نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست دہندگان کو اطلاع دی ہے کہ مذکورہ عرصے کے دوران تمام معمول کی ویزا خدمات معطل رہیں گی۔ متاثرہ افراد کو ان کی منسوخ شدہ تقاریب کی دوبارہ بکنگ کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ سفارت خانے نے درخواست دہندگان کو مزید ہدایات اور اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری چینلز کی نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ معطلی اس سے قبل آنے والے ایک اقدام کے بعد آئی ہے جب امریکی مشن نے اتوار 2 مارچ کو اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں تمام امریکی ویزا اور شہری خدمات کی تقاریب منسوخ کر دی تھیں۔
حفاظتی انتباہات اور پابندیاں
یکم مارچ کو جاری کردہ ایک حفاظتی انتباہ میں امریکی مشن نے لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر ممکنہ مظاہروں اور کراچی میں قونصل خانے کے قریب احتجاجی سرگرمیوں کی اطلاعات پر نظر رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ انتباہ میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور پشاور میں قونصل خانے کے باہر اضافی مظاہروں کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا۔
احتیاطی تدبیر کے طور پر امریکی حکومتی اہلکاروں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امریکی شہریوں کو مقامی خبروں پر نظر رکھنے، ذاتی حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے، ہجوم سے بچنے اور اپنے اردگرد کے ماحول سے آگاہ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
احتجاجی مظاہروں کا پس منظر
یہ اقدام ایسے وقت میں آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف پورے پاکستان میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے پرتشدد تصادم میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے جہاں مظاہرین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کیا۔ کراچی میں مظاہرین کے قونصل خانے کی طرف بڑھنے کی کوشش کے بعد پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فورس کا استعمال کیا۔ اسلام آباد میں حکام نے ریڈ زون کی طرف جانے والے راستے بلاک کر دیے اور دفعہ 144 نافذ کر دی۔ ان واقعات کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔

