وسطیٰ مشرق بحران: پاکستانی ہوائی اڈوں پر 11 بین الاقوامی پروازیں تین روز سے معطل
فضائی راستوں میں ہنگامی تبدیلیاں، پاک-افغان راستہ مصروف ترین بن گیا
وسطیٰ مشرق میں حالیہ فوجی تصادم کے باعث پاکستان بھر کے ہوائی اڈوں پر کم از کم 11 بین الاقوامی پروازیں گذشتہ تین دن سے روانگی کا انتظار کر رہی ہیں۔ بحران کے بعد خطے میں فضائی حدود بند ہونے سے عالمی ہوائی سفر کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔
ہوائی اڈوں پر جمود
ذرائع کے مطابق، ملتان ایئرپورٹ پر ایک غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز تین دن سے زمین پر کھڑی ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ ایئرپورٹ پر دو دیگر بین الاقوامی ایئرلائنز کے جہاز بھی روانگی کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور اس کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی نئی فوجی کشیدگی کے بعد پیدا ہوئی ہے۔
پاک-افغان فضائی راستوں پر دباؤ میں اضافہ
وسطیٰ مشرق کے بڑے ہوائی اڈوں بشمول دبئی، ابوظہبی اور دوحہ کے بند ہونے یا سخت پابندیوں کا شکار ہونے کے بعد، پاکستان اور افغانستان کے فضائی راستوں سے پروازوں کی آمدورفت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ فلائٹ ریڈار ڈیٹا کے مطابق، یہ راستے اب دنیا کے مصروف ترین فضائی راستوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
عالمی ہوائی سفر پر گہرے اثرات
اہم ہب بند، ہزاروں مسافر متاثر
اتوار کو عالمی ہوائی سفر میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ دبئی اور دوحہ جیسے اہم ٹرانزٹ ہب کے بند ہونے سے نہ صرف طیارے اور عملہ مقررہ مقامات سے باہر پھنس گئے ہیں بلکہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی متعدد ایئرلائنز کو پروازیں منسوخ کرنی پڑی ہیں یا راستے تبدیل کرنے پڑے ہیں۔ ایران اور عراق کے فضائی راستوں کے بند ہونے سے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کی رائے
فلائٹ ریڈار24 کے ڈائریکٹر مواصلات ایان پیٹچینک کے مطابق، "مشرق وسطیٰ میں فضائی حدود بند ہونے سے ایئرلائنز کے لیے فضائی راستے تنگ ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری تصادم نے اس صورتحال میں اضافی خطرہ پیدا کر دیا ہے۔” ماہرین کا کہنا ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد ایران اور عراق کے فضائی راستوں کی اہمیت میں اضافہ ہوا تھا، جو اب بند ہونے سے عالمی ہوائی سفر کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

